logo logo
AI Search

نماز کی تکبیرات ِانتقالات سنت مؤکدہ ہیں یا غیر مؤکدہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز کی تکبیرات ِانتقالات (رکوع و سجدہ کی تکبیر) سنت مؤکدہ ہیں یا غیر مؤکدہ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

تکبیرِ انتقال یعنی رکوع میں جاتے وقت، یونہی سجدے میں جاتے وقت یا سجدے سے اٹھتے وقت جو تکبیر کہی جاتی ہے، یہ سنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟

جواب

تکبیراتِ انتقال سنت مؤکدہ ہیں۔عام کتبِ فقہ میں تکبیراتِ انتقال کے متعلق صراحت کے ساتھ منقول ہے کہ یہ سنت ہیں، لیکن سنتِ مؤکدہ ہیں یا غیر مؤکدہ اس کی صراحت نہیں ملی۔ ہاں! شرحِ حدیث مرقاۃ المفاتیح میں سلطان العلماء علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ نے اس کی صراحت فرمائی کہ یہ سنتِ مؤکدہ ہیں۔

تکبیر انتقال کے سنت ہونے کے متعلق شرح مختصر الکرخی، بدائع الصنائع، شرح الوقایہ اور اس کے حاشیہ عمدۃ الرعایہ میں ہے،

والنص للآخر:”(ثم یکبر للرکوع) وھذا التکبیر وکذا تکبیر جمیع الانتقالات سنۃ ثابتۃ بأحادیث کثیرۃ“

ترجمہ: (پھر رکوع کے لیے تکبیر کہے) اور یہ تکبیر اور اسی طرح تمام انتقالات (ایک رکن سے دوسرے رکن میں جانے) کی تکبیریں سنت ہیں جو کثیر احادیث سے ثابت ہیں۔ (عمدۃ الرعایہ علی شرح الوقایہ، ج 2، ص 92، دار الکتب العلمیۃ)

علامہ علی قاری رحمہ اللہ تکبیراتِ انتقالات کے سنتِ مؤکدہ ہونے کے متعلق لکھتے ہیں:

”التکبیرات التی للانتقال من السنن المؤکدۃ “

ترجمہ: تکبیرات ِ انتقال سننِ مؤکدہ میں سے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 2، ص 659، دار الفكر، بيروت)

اور درج ذیل دلائل و قرائن سے علامہ علی قاری رحمہ اللہ کی اس صراحت کی تائید ہوتی ہے:

(1) کسی فعل پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ہمیشہ عمل فرمانا یا کبھی کبھار کرنا ہی سنت کے مؤکدہ اور غیر مؤکدہ ہونے کے درمیان فرق کرنے والا اصل ضابطہ ہے اور کسی سنت پر ہمیشگی ہی اسے مؤکدہ بناتی ہے۔ اس اصول کے پیشِ نظر دیکھا جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے وصال تک ہمیشہ نماز کے دوران ایک رکن سے دوسرے رکن میں جاتے وقت تکبیراتِ انتقال کہی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایک بار بھی ان کا چھوڑنا ثابت نہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تکبیرِ انتقال سنتِ مؤکدہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ہمیشہ عمل فرمانا یا کبھی کبھار کرنا ہی سنت کے مؤکدہ اور غیر مؤکدہ ہونے کے درمیان فرق کرنے والا اصل ضابطہ ہے، جیسا کہ الوجیر فی اصول الفقہ میں ہے:

”السنة المؤكدة: والضابط لهذا القسم أنه ما واظب عليه النبي صلى الله عليه وسلم ولم يتركه إلا نادرا ليبين جواز الترك۔۔۔ السنة غير المؤكدة: والضابط لهذا القسم أنه ما لم يواظب عليه النبي صلى الله عليه وسلم، وإنما كان يفعله النبي في بعض الأحيان“

ترجمہ: سنتِ مؤکدہ: اس قسم کا ضابطہ یہ ہے کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیشگی فرمائی ہو اور اسے کبھی کبھار کے سوا نہ چھوڑا ہو تاکہ چھوڑنے کا جواز بیان کر دیں۔۔۔ سنتِ غیر مؤکدہ: اس قسم کا ضابطہ یہ ہے کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیشگی نہ فرمائی ہو، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اسے بعض اوقات کرتے ہوں۔ (الوجيز في أصول الفقه الإسلامي، ج 1، ص 340، دار الخیر للطباعۃ والنشر، دمشق)

نہر الفائق میں فتح القدیر کے حوالے سےہے:

”ھی ما واظب علیہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مع الترک احیاناً“

ترجمہ: (سنتِ مؤکدہ) وہ کام جس پر حضور علیہ السلام نے ہمیشگی اختیار فرمائی ہو چند مرتبہ ترک کرنے کے ساتھ۔ (نہر الفائق، جلد 1، صفحہ 36، ملتقطاً، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

رد المحتار میں ہے:

”يأثم لا لنفس الترك بل لأنه استخفاف وعدم مبالاة بسنة واظب عليها النبي صلی اللہ علیہ وسلم مدة عمره، وهذا مطرد في جميع السنن المؤكدة

ترجمہ: گناہ، ترک کرنے کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ اس لیے ہوگا کہ یہ اس سنت کو ہلکا جاننا اور اس سے لاپروائی برتنا ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی ہمیشگی فرمائی اور یہی قاعدہ تمام سننِ مؤکدہ میں جاری ہوتا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 474، دار الفکر)

یہی امام اہل سنت رحمہ اللہ نے بیان فرمایا: ”ایك بدیہی بات، سنیت کا ہے سے ثابت ہوتی ہے مواظبت حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے مطلقًا یامع الترك احیانًا اور وجوب کو کیا چاہیے، انکار علی الترك بھی یا صرف مواظبت دائمہ، اب دیکھ لیا جائے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کس جماعت پر مواظبت فرمائی اور کس کے ترك پر نکیر آئی، ظاہر ہے کہ وہ جماعت اولٰی ہی تھی تو وجوب یا استنان موکد اسی کا حکم ہے نہ مطلق ثانیہ کا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

تکبیرِ انتقال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مداومت فرمانے کی دلیل بخاری کی یہ حدیث ہے:

”عن عمران بن حصين قال: صلى مع علي رضي الله عنه بالبصرة فقال: ذكرنا هذا الرجل صلاة كنا نصليها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر انه كان يكبر كلما رفع وكلما وضع

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں ایک مرتبہ نماز پڑھی پھر کہا کہ: ہمیں انہوں نے وہ نماز یاد دلا دی جو کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے، پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب کسی رکن کے لیے جھکتے یا کسی رکن سے اٹھتے تو اس وقت تکبیر کہتے تھے۔ (الصحیح البخاری، رقم الحدیث: 784)

اور وصال تک اس پر ہمیشگی رہی، اس بارے میں امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی مؤطا میں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں یہ روایت نقل کی ہے:

”كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يكبر في الصلاة كلما خفض ورفع، فلم تزل تلك صلاته حتى لقي الله

 ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نماز میں جب بھی جھکتے اور بلند ہوتے (یعنی رکوع و سجود میں جاتے اور اٹھتے) تو تکبیر کہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی نماز وصال تک اسی طرح رہی۔ (مؤطأ امام مالک، ج 1، ص 76، دار إحياء التراث العربي)

اس حدیث کی شرح میں علامہ علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

”(فلم يزل تلك) أي: تلك الصلاة المقترنة بذلك التكبير (صلاته حتى لقي الله تعالٰى)“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تکبیر انتقالات کے ساتھ ہی ہمیشہ نماز ادا فرماتے رہے حتی کہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 2، ص 668، دار الفكر)

حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایک بار بھی اس کا ترک ثابت نہیں، نہایہ میں ہے:

”فإن النبي صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ لم يصل صلاة أيضا بدون رعاية سننها كرفع اليد عند التحريمة، والتكبير عند كل خفض ورفع وغيرهما حيث لم ينقل أحدا أنه صلی اللہ علیہ وسلم ما رفع اليد عند التحريمة ولا ترك التكبير عند الخفض والرفع“

ترجمہ: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کوئی نماز بھی اس کی سنتوں کی رعایت کے بغیر ادا نہیں فرمائی، جیسے تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا اور ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت تکبیر کہنا وغیرہ، کیونکہ کسی ایک سے بھی یہ منقول نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کبھی تحریمہ کے وقت ہاتھ نہ اٹھائے ہوں یا جھکنے اور اٹھنے کے وقت تکبیر چھوڑی ہو۔ (النھایہ فی شرح الھدایہ، ج 4، ص71، مركز الدراسات الإسلامية۔ بجامعة أم القرى)

 (2)سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ میں ایک فرق یہ ہے کہ سنت مؤکدہ کے ترک سے کراہت و اساءت لازم آتی ہے جبکہ غیر مؤکدہ کے ترک سے اساءت لازم نہیں آتی اور کتب فقہ میں تکبیرِ انتقال کے ترک پر اساءت کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تکبیرِ انتقال سنتِ مؤکدہ ہے۔ چنانچہ کتب فقہ میں نماز کی سنن کی فصل میں اولا سنن کا یہ حکم بیان کیا کہ ان کے ترک سے اساءت لازم آتی ہے اور انہی سنن میں تکبیر انتقال کو بھی شمار کیا، مثلاً در مختار میں ہے:

”(وسننها) ترك السنة لايوجب فسادا ولا سهوا بل إساءة لو عامدا غير مستخف۔۔۔(وتكبير الركوع و) كذا (الرفع منه)۔۔۔ (وتكبير السجود و) كذا نفس (الرفع منه)“

ترجمہ: (نماز کی سنتیں) سنت کو چھوڑنا نہ تو نماز کو فاسد کرتا ہے اور نہ ہی اس سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے بلکہ اگر جان بوجھ کر ہو اور استخفاف کے بغیر چھوڑا جائے تو اساءت لازم آتی ہے۔۔۔ (رکوع کی تکبیر کہنا اور) اسی طرح (رکوع سے اٹھتے وقت تسمیع کہنا)۔۔۔(سجدے کی تکبیر کہنا اور) اسی طرح (سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہنا)۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 473 تا 476، دار الفکر)

ہاں! یہاں یہ اشکال ضرور تھا کہ در مختار میں سنن کے درمیان آداب بھی بیان کر دیے ہیں جس سے تکبیرِ انتقال کے متعلق بھی یہ احتمال پیدا ہو گیا ہے کہ یہ سننِ غیر مؤکدہ، آداب و مستحبات میں سے ہو، لیکن فتاویٰ رضویہ میں تکبیرِ انتقال کے ترک پر اساءت و کراہت کا واضح حکم بیان کیا گیا جس سے تکبیرِ انتقال کا سننِ غیر مؤکدہ و آداب میں سے ہونے کا احتمال ساقط ہو گیا۔

امامِ اہل سنت رحمہ اللہ نے امام کے تکبیرِ انتقال چھوڑنے پر مقتدی کو امام کی مخالفت کرتے ہوئے ان کی ادائیگی کا حکم دیا اور ادا نہ کرنے پر اساءت و کراہت کا، چنانچہ لکھتے ہیں: ”اسی طرح ترك سنّت میں امام کی پیروی نہیں بلکہ موجبِ اسا ء ت و کراہت ہے اگر وہ چھوڑے مقتدی بجا لائے جبکہ اس کی بجا آوری سے کسی واجب فعل میں امام کی متابعت نہ چھوٹے و لہذا علماء فرماتے ہیں اگر امام وقت ِتحریمہ رفع یدین یا تسبیح رکوع و سجود یا تکبیر انتقال یا ذکر قومہ ترك کرے تو مقتدی نہ چھوڑے۔

کمانص علیہ فی نظم الزندویسی والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والھندیۃ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر والغنیۃ والدرالمحتار وحاشیۃ الدرر للعلامۃ شرنبلالی وغیرھا وھذا نص البزازیۃ ملخصا، تسعۃ اشیاء اذا ترک الامام اتی بھا الماموم رفع الیدین فی التحریمۃ وتکبیرۃ الرکوع اوالسجود او التسبیح فیھما اوالتسمیع الخ

(ترجمہ: نظمِ زندویسی، خانیہ، خلاصہ، بزازیہ، ہندیہ، خزانۃ المفتین، فتح القدیر، غنیہ، در مختار اور حاشیہ در للعلامہ شرنبلالی اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے۔ عبارت بزازیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نو (۹) ایسی اشیاء جن کو امام ترک کردے تو مقتدی ان کو بجا لائے، تکبیر تحریمہ کے موقعہ پر ہاتھوں کا اٹھانا، رکوع یا سجدہ کے لئے تکبیر یا ان دونوں میں تسبیح یا تسمیع (سمع ﷲ لمن حمدہ کہنا) الخ)۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 408، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0718
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1447ھ/30 جنوری 2026 ء