نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد آمین ثم آمین یا اللّٰہ اکبر کہنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد آمین ثم آمین اور اللہ اکبر کہنے سے نماز کا حکم؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بہارِ شریعت میں ہے کہ سورت فاتحہ اور سورت کے درمیان آمین اور تسمیہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھنا واجب ہے، تو سوال یہ ہے کہ (1) نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد اور سورت ملانے سے پہلے اگر کسی نے آمین ثم آمین کہہ دیا، تو یہ ترک واجب ہوگا یا نہیں؟
(2) یونہی اگر کسی نے سورۂ فاتحہ اور سورت کے درمیان بھولے سے اللہ اکبر کہہ دیا، تو کیا حکم ہوگا؟
جواب
(1، 2) فاتحہ و سورت کے درمیان آمین ثم آمین یا اللہ اکبر کہنا ترکِ واجب کا سبب نہیں، لہٰذا اس سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا، البتہ قصداً نہ پڑھا جائے۔
مسئلہ کی تفصیل: حکمِ شرعی یہ ہے کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں، وتر اور سنن و نوافل کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد کسی طویل اجنبی فاصل کے بغیر سورت ملانا واجب ہےاور لفظِ آمین چونکہ فاتحہ شریف کے تابع اور بسم اللہ سورت کے تابع ہے، لہٰذا یہ اجنبی فصل شمار نہیں ہوں گے۔ اور اگر کسی نے سورۂ فاتحہ اور سورت کے درمیان آمین و تسمیہ کے علاوہ مزید کچھ پڑھا، تو ترکِ واجب ہوگا یا نہیں؟ اس کے متعلق ضابطہ شرعیہ یہ ہے کہ اگر سورۂ فاتحہ اور سورت کے درمیان فصلِ اجنبی، طویل ہو، تو یہ ترکِ واجب شمار ہوگا اور اگر قلیل ہو، تو ترکِ واجب نہیں ہوگا۔ اور فصلِ طویل سے مراد ایک رکن یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدارہے اور چونکہ آمین کہنے کے بعد ثم آمین یا اللہ اکبر کہنا فصل طویل اور رکن کی مقدار نہیں، لہٰذا اس سے ترکِ واجب نہیں ہوگا۔
اجنبی فصل سے مراد فصلِ طویل اور فصلِ طویل سے بقدرِ رکن مراد ہونے کی تفصیل:
(1) اجنبی فصل سے فصل طویل مراد ہونے کی فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے، جیسا کہ فتاوٰی امجدیہ میں ہے، لہٰذا فصلِ قلیل یعنی ایک دو کلمات ترکِ واجب کا سبب نہیں ہوں گے ۔
(2) فاتحہ و سورت کے درمیان اجنبی فاصل کی ممانعت کی اصل وجہ ضمِ سورت کے واجب میں تاخیر ہے اور حکمِ شرعی یہ ہے کہ فرض یا واجب میں تاخیر کے سبب ترکِ واجب کا حکم اسی وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ تاخیر بقدرِ رکن یعنی تین تسبیح کی مقدار ہو، اس سے کم تاخیر ترکِ واجب کا سبب نہیں ہوتی۔ جیسا کہ
٭ تین یا چار رکعتی فرض، واجب اور سنتِ مؤکدہ کے قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد بغیر کسی تاخیر کے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے، یہاں اگر ایک رکن کی مقدار تاخیر کی، خواہ تشہد کے کلمات کو دوبارہ پڑھنے کے ذریعے یا درودِ پاک پڑھنے کے سبب، تو ترکِ واجب کا حکم ہوگا، رکن کی مقدار سے کم کی صورت میں نہیں ۔
٭ تین یا چار رکعتی نماز میں پہلی یا تیسری رکعت میں نہ بیٹھنا واجب ہے، اگر بھولے سے بیٹھ گیا، تو فقط بیٹھنا ترکِ واجب کا سبب نہیں ہوگا، بلکہ بقدرِ رکن تاخیر ہی ترکِ واجب کا سبب ہوگی۔ لہٰذا ان مقامات کی طرح فاتحہ و سورت کے درمیان بھی وہی اجنبی فاصل تاخیر اور ترکِ واجب کا سبب بنے گا، جو طویل یعنی بقدرِ رکن ہو، اگر اس سے کم فصل ہوا، تو ترکِ واجب کا حکم نہیں ہوگا ۔
(3) فقہائے کرام نے جہاں اجنبی فاصل کا ذکر کیا، وہاں اس کی ایک مثال سکوت یعنی خاموش رہنے کی بیان فرمائی ہے اور سکوت کے متعلق خود تصریح فرماتے ہیں کہ اگر نمازی نے فاتحہ و سورت کے درمیان یا قعدہ میں بقدرِ رکن سکوت کیا، تو ترکِ واجب کا حکم ہوگا، اس سے کم کی صورت میں نہیں ۔ جیسا کہ
٭ اگر کوئی شخص فاتحہ کے بعد سورت سوچتا رہا یا سورت پڑھنے کے دوران کوئی آیت بھول گیا اور یاد کرنے کے سبب خاموش رہا، تو بقدرِ رکن خاموش رہنے کے سبب ہی ترکِ واجب کا حکم ہوگا، اس سے کم میں نہیں ۔
٭ کوئی شخص قعدہ میں تشہد کے بعد سلام بھول کر خاموشی سے بیٹھ گیا، تو اگر بقدرِ رکن خاموش رہا، تو ترکِ واجب کا حکم ہوگا، ورنہ نہیں ۔
معلوم ہوا جس طرح ضمِ سورت سے پہلے سکوت کیا، تو ترکِ واجب کا حکم اسی وقت ہوتا ہے، جب سکوت بقدرِ رکن ہو، تو کچھ پڑھنے کی صورت میں بھی ترکِ واجب کا حکم اسی صورت میں ہوگا، جب وہ کلمات بقدرِ رکن ہوں، کیونکہ دونوں کے حکم میں فرق کی کوئی وجہ موجود نہیں، لہٰذا اگر رکن سے کم پڑھا، تو اگرچہ یہ بھی اجنبی فصل ہے، لیکن بقدرِ رکن نہ ہونے کے سبب فصلِ طویل نہیں، جبکہ ممانعت فصلِ طویل کی ہے، لہٰذا یہ فصل ترکِ واجب کا سبب نہیں ہوگا۔
(4) فاتحہ و سورت کے درمیان رکن کی مقدار سے کم پڑھنے کی صورت میں بھی ترکِ واجب کا حکم دینا، حرج کا باعث ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے بقدرِ رکن سے کم میں عفو کا حکم بیان کیا، جیساکہ سورۂ فاتحہ سے پہلے سورت شروع کرنے کی صورت میں بقدرِ رکن کو ترکِ واجب کا سبب قرار دیا اور اس سے کم کو حرج کے سبب معاف رکھا ۔
حاصل یہ ہے کہ فاتحہ و سورت کے درمیان آمین کے بعد ثم آمین یا اللہ اکبر کہنا فصلِ قلیل ہونے کی وجہ سے ترکِ واجب کا سبب نہیں ہوگا۔
بالترتیب جزئیات ملاحظہ کیجیے :
فرض، واجب اور سنن و نوافل کی ہر رکعت میں بلا تاخیر سورت ملانا، واجب ہے، چنانچہ تنویر الابصار و درمختار میں ہے،
و فی القوسین عبارۃ درالمختار: و ضم (اقصر) سورۃ (کالکوثر او ما قام مقامھا) فی الاولیین من الفرض و جمیع النفل و الوتر
ترجمہ: فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی تمام رکعتوں میں چھوٹی سورت جیسے سورۂ کوثر یا اس کے قائم مقام آیات کا ملانا، واجب ہے۔ (تنویر الابصار و درمختار، جلد 2، صفحہ 185، 186، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) مذکورہ بالا عبارت کے تحت لکھتے ہیں:
فی لفظ الضم اشارۃ الی ان الواجب ان یکون السورۃ اثر الفاتحۃ بلا فصل باجنبی کسکوت، فقد صرحوا ان لو قرأ الفاتحۃ ثم وقف متأملا انہ ای سورۃ یقرأ لزمہ سجود السھو، وانما قلت باجنبی لاخراج آمین فانہ من توابع الفاتحۃ وبسم اللہ قبل السورۃ فانھا من توابع السورۃ واستفید من ھاھنا ان لو وقف بعد الفاتحۃ یقرأ دعا او ذکرا لزمہ السجود ان سھوا والاعادۃ لو عمدا
ترجمہ: لفظ ضم کے ذریعہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے فوری بعد بغیر کسی اجنبی فاصل (جیسے سکوت) کے سورت ملانا واجب ہے، کیونکہ فقہائے کرام صراحت فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے سورہ فاتحہ پڑھی اور خاموش ہوکر (بقدرِ رکن) سوچتا رہا کہ کونسی سورت پڑھوں، تو اس پر سجدۂ سہو لازم ہے۔ اور میں نے لفظ اجنبی آمین اور بسم اللہ کو نکالنے کے لئے کہا ہے، کیونکہ آمین سورۂ فاتحہ کے تابع ہے اور بسم اللہ اگلی سورت کے تابع ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے فاتحہ کے بعد (طویل) دعا یا ذکر پر مشتمل کچھ کلمات پڑھے، تو اس پر سجدہ واجب ہوگا جبکہ وہ بھولے سے پڑھے اور اگر جان بوجھ کر پڑھے، تو اعادہ واجب ہو گا۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 150، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے: الحمد و سورت کے درمیان کسی اجنبی کا فاصل نہ ہونا، آمین تابع الحمد ہے اور بسم اللہ تابع سورت یہ اجنبی نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 518، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
اور فصل سے فصلِ طویل مراد ہونے کی صراحت کرتے ہوئے خود صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: امام کو چاہیے کہ سورۂ فاتحہ جب (جہراً کی بجائے سراً) پڑھ چکا، تو اس کا اعادہ نہ کرے، بلکہ اب سورت کو جہر سے پڑھے اور ختم نماز پر سجدہ سہو کرے کہ جہر سے پڑھنا امام پر واجب تھا اور یہ واجب امام سے سہواً ترک ہوا اور فاتحہ کی تکرار کا ترک واجب ہے کہ فاتحہ اور سورت کے درمیان فصلِ طویل جائز نہیں۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، صفحہ 282، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
فاتحہ و سورت کے درمیان اجنبی فصل کی ممانعت چونکہ واجب میں تاخیر کے سبب ہے اور واجب میں تاخیر اسی وقت ترکِ واجب کا سبب ہوگی، جب کہ بقدرِ رکن ہو، چنانچہ ردالمحتار میں بحر كے حوالے سے ہے :
و قيده في فتح القدير بأن يكون مقدار ما يتأدى به ركن، أي لأن الظاهر أن العلة هي تأخير الابتداء بالفاتحة و التأخير اليسير، و هو ما دون ركن معفو عنه
ترجمہ : فتح القدیر میں اسے (ایک حرف پڑھنے کو) اس بات کے ساتھ مقید کیا ہے کہ اتنی مقدار ہو جس سے ایک رکن ادا کیا جا سکتا ہو، یعنی ظاہر یہی ہے کہ یہاں سجدہ سہو کے لزوم کی علت سورہ فاتحہ کی ابتدا میں تاخیر ہے اور معمولی تاخیر جو بقدرِ رکن سے کم ہو، معاف ہوتی ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 188، مطبوعہ کوئٹہ)
مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: دو فرض یا دو واجب یا واجب فر ض کے درمیان تین تسبیح کی قدر وقفہ نہ ہونا (واجب ہے، لہٰذا بقدرِ رکن وقفہ ہوا، تو ترکِ واجب ہوگا، ورنہ نہیں)۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 519، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
ترکِ واجب میں رکن کی مقدار کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی عبد المنان اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: اور باب سہو میں تاخیر طویل حسب بیان علامہ (شامی) بھی مقدار ادائے رکن ہے، اس کو جی چاہے تین بار سبحان اللہ کہنے سے تعبیر کریں یا ایک آیت کی مقدار سے بیان کریں یا السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ لینے کی مقدار سے۔ (فتاوی بحر العلوم، جلد 1، صفحہ 462، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: کسی رکن کی تاخیر پر سجدہ سہو ہوتا ہے، مثلا کھڑا ہونا تھا بیٹھ گیا، تو کھڑے ہونے میں تاخیر ہوئی، بیٹھنا تھا کھڑا ہو گیا اور پھر بیٹھا، تو بیٹھنے میں تاخیر ہوئی یا بیٹھنا متروک ہوا، ایسی صورت میں سجدہ سہو ہے اور تاخیر کا فیصلہ وہی تین تسبیح کی مقدار سے ہوگا۔ (فتاوی بحر العلوم، جلد 4، صفحہ 65، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد بقدرِ رکن تاخیر ترکِ واجب کا سبب ہے، اس سے کم نہیں، چنانچہ نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:
یجب (القیام الی) الرکعۃ (الثالثۃ من غیر تراخ بعد) قراءۃ (التشھد) حتی لو زاد علیہ بمقدار اداء رکن ساھیا یسجد للسھو لتاخیر واجب القیام للثالثۃ
ترجمہ: تشہد پڑھنے کے بعد بلا تاخیر تیسری رکعت کی طرف اٹھنا واجب ہے، اگر کسی نے بھولے سے تشہد پر ایک رکن کی مقدار زیادتی کی، تو تیسری رکعت کے لیے ا ٹھنے کا واجب مؤخر ہونے کی وجہ سے سجدہ سہو کرے گا۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 139، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مذکور عبارت بمقدار أداء ركن کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
على الصحيح و بينوه بما إذا قال اللّٰهم صل على محمد
ترجمہ : صحیح قول یہی ہے اور یہاں رکن کی مقدار فقہائے کرام نےاللّٰهم صل على محمدتک بیان کی ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، صفحہ 251، مطبوعہ کوئٹہ)
نماز کی پہلی یا تیسری رکعت میں بھولے سے بیٹھ گیا، تو بقدرِ رکن تاخیر سے ترکِ واجب کا سبب ہوگی، چنانچہ درمختار میں ہے:
ترک قعود قبل ثانیۃ او رابعۃ
ترجمہ: دوسری یا چوتھی رکعت سے پہلے قعدہ نہ کرنا (واجب ہے)۔ (در مختار، جلد 2، صفحہ 201، مطبوعہ کوئٹہ)
مذکور عبارت کے تحت علامہ عابد سندھی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں:
ترک قعود قبل ثانیۃ من الصلوات مطلقا ثنائیۃ کانت او ثلاثیۃ او رباعیۃ فلو قعد بعد السجود الثانی من الرکعۃ الاولیٰ لزمہ سجود السھو لتاخیر الفرض و ھو القیام الی الثانیۃ
ترجمہ: تمام نمازوں میں دوسری رکعت سے پہلے قعدہ نہ کرنا واجب ہے، خواہ وہ نماز دو رکعتی، تین رکعتی یا چار رکعتی ہو۔ لہٰذا اگر نمازی پہلی رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد بیٹھا، تو اُس پر سجدہ سہو واجب ہے، کیونکہ فرض میں تاخیر پائی گئی اور وہ فرض دوسری رکعت کے قیام کے لیے کھڑا ہونا تھا۔ (طوالع الانوار (المخطوط)، الجزء الثالث من المجلد الاول، صفحہ 608، رقم المخطوط 424، موجود فی المکتبۃ الازھر)
اور یہ تاخیر اُس وقت موجِبِ سہو ہوگی، جب تین تسبیح کی مقدار ہو، چنانچہ اَشْرَف الفقہاء، خلیفہ مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد مجیب اشرف رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1441ھ / 2020ء) سجدہ سہو کے احکامات پر مشتمل تفصیلی کتاب تنویر الضحو لسجدۃ السہو میں لکھتے ہیں: کوئی شخص پہلی یا تیسری رکعت میں بھول کر بیٹھ گیا اور تین بار سبحان اللہ کہنےکی مقدار سےکم بیٹھ کر اٹھا، تو سجدہ سہو واجب نہیں ہے اور اگر تین بار کہنے کی مقدار تاخیر کر کے اٹھا، تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (تنویر الضحو لسجدۃ السھو، صفحہ 86، ناشر نوری میڈیکل، ناگپور)
سکوت کے سبب اسی وقت ترکِ واجب کا حکم ہوگا، جب کہ وہ بقدرِ رکن ہو، چنانچہ منیۃ المصلی میں ہے :
الاصل فی التفکر ان منعہ عن اداء رکن او واجب یلزمہ السھو
ترجمہ:غور وفکر (کے سبب خاموشی رہنے کی صورت میں) اصول یہ ہے کہ اگر اس تفکر نے نمازی کو ادائے رکن یا واجب سے روکا، تو سجدہ سہو واجب ہوگا (ورنہ نہیں)۔ (منیۃ المصلی، جلد 2، صفحہ 460، مطبوعہ بیروت)
فاتحہ کے بعد سورت شروع کرنے سے پہلے سکوت کرنے کے متعلق اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا، تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: الحمد شریف کے بعد امام نے سانس لیا اور آمین کہی اور شروع سورت کے لیے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور بسم اللہ کو خوب ترتیل سے ادا کیا، تو اس قدر میں ایك سورت چھوٹی پڑھنے کی ضرور دیر ہوجائے گی، مگراس میں حرج نہیں، بلکہ یہ سب باتیں مطابق سنت ہیں، سکوت اتنی دیر کیا کہ تین بار سبحان اللہ کہہ لیتا، تو یہ سکوت اگر بر بنائے تفکر تھا کہ سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں، تو سجدہ سہو واجب ہے، اگر نہ کیا، تو اعادہ نماز کا واجب ہےاور اگر وہ سکوت عمداً بلا وجہ تھا، جب بھی اعادہ واجب۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 192، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
سلام بھول کر خاموش رہا، تو اگر بقدرِ رکن خاموش رہا، تو ترکِ واجب، ورنہ نہیں، چنانچہ غنیۃ المستملی میں ہے:
(ان سھا عن السلام) یعنی بالسھو عن السلام (بانہ اطال القعدۃ) الاخیرۃ ساکنا قدر رکن او اکثر (علی ظن انہ خرج من الصلوٰۃ) ثم علم انہ لم یخرج و لم یسلم (فسلم) یسجد للسھو لتاخیرہ الواجب
ترجمہ: اگر کوئی شخص سلام بھول گیا اور اس نے ایک رکن یا اس سے زائد کی مقدار خاموش رہتے ہوئے قعدہ اخیرہ طویل کردیا اس گمان سے کہ وہ نماز سے نکل چکا ہے، پھر اسے یاد آیا کہ وہ نماز سے خارج نہیں ہوا اور اس نے سلام نہیں پھیرا، تو وہ سلام پھیرے اور سجدہ سہو بھی کرے، کیونکہ اس سے واجب میں تاخیر ہوئی ہے۔ (غنیۃ المستملی (حلبی کبیری)، صفحہ 401، مطبوعہ کوئٹہ)
سکوت کی طرح کچھ پڑھنے کی صورت میں بھی ترکِ واجب کا حکم بقدرِ رکن کی صورت میں ہی ہوگا، چنانچہ نہر الفائق میں ہے:
و أومأ بالضم إلى أن تقدم الفاتحة واجب فلو قرأ حرفا في السورة قبلها ساهيا سجد للسهو
یعنی: یہاں ضم السورۃ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فاتحہ کو سورت سے مقدم کرنا واجب ہے، پس اگر کسی نے سورۂ فاتحہ سے قبل ایک حرف بھی بھول کر پڑھ دیا، تو سجدہ سہو لازم ہوگا۔ (نہر الفائق، جلد 1، صفحہ 197، مطبوعہ بیروت)
مذکورہ بالا عبارت فلو قرأ حرفامیں حرف کی مراد بیان کرتے ہوئے علامہ عابد سندھی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ طوالع الانوار میں اور علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ رد المحتار میں لکھتے ہیں،
و اللفظ لرر المحتار: قالوا لو قرأ حرفا من السورة ساهيا ثم تذكر يقرأ الفاتحة ثم السورة، و يلزمه سجود السهو بحر، و هل المراد بالحرف حقيقته أو الكلمة، يراجع ثم رأيت في سهو البحر قال بعد ما مر: و قيده في فتح القدير بأن يكون مقدار ما يتأدى به ركن،أي لأن الظاهر أن العلة هي تأخير الابتداء بالفاتحة و التأخير اليسير، و هو ما دون ركن معفو عنه تأمل. ثم رأيت صاحب الحلية أيد ما بحثه شيخه في الفتح من القيد المذكور بما ذكروه من الزيادة على التشهد في القعدة الأولى الموجبة للسهو بسبب تأخير القيام عن محله، و أن غير واحد من المشايخ قدرها بمقدار أداء ركن
ترجمہ: فقہائے کرام نے فرمایا: اگر فاتحہ سے پہلے سورت کا ایک حرف بھی بھول کر پڑھ لیا، پھر یاد آیا، تو فاتحہ پڑھے، پھر سورت پڑھے اور اس بنا پر سجدۂ سہو لازم ہے، یونہی بحر میں ہے، لیکن یہاں حرف سے کیا مراد ہے؟ حقیقتاً حرف ہی یا پورا کلمہ؟ اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ پھر میں نے بحر کے سہو کے باب میں دیکھا کہ صاحب بحر نے گزشتہ گفتگو کے بعد کہا: فتح القدیر میں اسے (ایک حرف پڑھنے کو) اس بات کے ساتھ مقید کیا ہے کہ اتنی مقدار ہو جس سے ایک رکن ادا کیا جا سکتا ہو، یعنی ظاہر یہی ہے کہ یہاں سجدہ سہو کے لزوم کی علت سورۃ فاتحہ کی ابتداء میں تاخیر ہے اور معمولی تاخیر جو بقدرِ رکن سے کم ہو، معاف ہوتی ہے، تو غور کرو۔ پھر میں نے صاحبِ حلیہ کو دیکھا انہوں نے اپنے شیخ کی اس قید کو جسے فتح القدیر میں ذکر کیا گیا، اس دلیل سے مضبوط کیا ہے کہ فقہا نے تشہد میں قعدہ اولیٰ میں مقدارِ تشہد سے زیادہ پڑھنے کو بھی سجدۂ سہو کا موجب قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے کھڑے ہونے میں تاخیر ہوتی ہے اور کئی مشائخ نے اس تاخیر کی مقدار بھی ایک رکن کی ادائیگی کے برابر قرار دی ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 188، مطبوعہ كوئٹہ)
جو حکم بقدرِ رکن سکوت کا ہے، وہی حکم کچھ پڑھنے کی صورت میں بھی ہوگا، جیسا کہ ایک مسئلہ کے ضمن میں مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھااَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍتو سجدۂ سہو واجب ہے اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ (درودِ پاک پڑھنے کی وجہ سے) تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی، تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا، جب بھی سجدۂ سہو واجب ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 713، مکتبۃ المدینہ)
بقدرِ رکن سے کم تاخیر میں حرج کی بنا پر معافی ہے، جیساکہ ردالمحتار کے مذکورہ بالا جزئیہ و التأخير اليسير، و هو ما دون ركن معفو عنه میں تفصیل بیان ہو چکی۔
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9838
تاریخ اجراء: 17 رمضان المبارک 1447ھ / 07 مارچ 2026ء