logo logo
AI Search

نماز میں سورۃ التین کے سافلین کو سائلین پڑھنا

سورہ و التین میں سافلین کو سائلین پڑھنے سے نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ امام صاحب نے سورۃ التین کی تلاوت کرتے ہوئے آیت نمبر 5

﴿ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ(۵)

کے آخری لفظ﴿سٰفِلِیْنَ﴾ کی جگہ﴿سَآىٕلِیْنَ﴾ پڑھ دیا، کسی نے لقمہ نہیں دیا۔نماز کے بعد 5 افراد نے بتایا کہ آپ نے ﴿سٰفِلِیْنَ﴾ کی جگہ﴿سَآىٕلِیْنَ﴾پڑھا ہے، جس کی وجہ سے نماز نہیں ہوئی ، نماز دوبارہ پڑھائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس غلطی کی بنا پر نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں

﴿ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ(۵)

کے آخری لفظ﴿سٰفِلِیْنَ﴾ کی جگہ﴿سَآىٕلِیْنَ﴾پڑھنے سے نماز فاسد ہوگئی ، کیونکہ آیت کا معنی یہ ہے کہ ”پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا“، جبکہ﴿سَآىٕلِیْنَ﴾کا معنی ہے: ”پوچھنے والے یا مانگنے والے“، تو﴿سَآىٕلِیْنَ﴾ پڑھنے سے آیت کا معنی و مفہوم باقی نہ رہا کہ دونوں الفاظ کے معنی ایک دوسرے کے قریب و موافق نہیں ہیں ، بلکہ بعید ہیں اور احوط و مفتی بہ قول کے مطابق معنی بعید ہونے کی صورت میں نماز کے فساد کا حکم ہے، لہٰذا دوبارہ نماز ادا کرنا فرض ہے۔

قراءت کرتے ہوئے کسی کلمہ کی جگہ دوسرا کلمہ پڑھ لیا، تو امام اعظم و امام محمد رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی اور امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے اصول یہ ہیں۔ امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) نے ”جد الممتار“ میں لکھتے ہیں:

فلأنهما لا يعتبران وجود المثل، إنما المدار عندهما الموافقة في المعني وقد حکما بالفساد عند بعد المعنی مع عدم فحش التغیر۔۔۔فلان المدار عندہ وجود المثل۔ملخصا

 ترجمہ: کیونکہ طرفین رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی قرآن میں مثل کے پائے جانے کا اعتبار نہیں کرتے، ان دونوں کے نزدیک دارومدار ”معنی میں موافقت“ پر ہے اور وہ معنی کے بعید ہونے پر فساد کا حکم لگاتے ہیں ، اگرچہ بہت زیادہ بعید نہ ہو۔۔۔ (مزید لکھا) کیونکہ امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیک مدار مثل کے پائے جانے پر ہے۔(جد الممتار علی ردالمحتار، جلد 3، صفحہ 370، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اِس اصول کی مزید ایک صورت کہ جب دوسرا کلمہ قرآن میں موجود ہو اور معنی بہت زیادہ بعید ہو، اس صورت کے متعلق لکھا:

اذا کان مثلہ فی القرآن وقد تغیر المعنی تغیرا فاحشا والحکم الفساد بالاتفاق

ترجمہ: جب اس کی مثل قرآن میں ہو اور معنی بھی بہت زیادہ تبدیل ہو ، تو ایسی صورت میں بالاتفاق فساد نماز کا حکم ہے۔ (جدالممتار، جلد 3، صفحہ 370، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی اصولی اختلاف کے متعلق مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1403ھ / 1982ء) لکھتے ہیں: ”عدمِ فساد کی مدار حضرتِ امام اول و ثالث رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی کے نزدیک موافقتِ معنی (یعنی معنائے خطا معنائے صحیح کے موافق ومتقارب ہو) پر ہے اور امام ثانی ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیک اس پر کہ اس کی مثل قرآنِ کریم میں ہو۔“ (فتاوی نوریہ، جلد 3، صفحہ 544، مطبوعہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ)

کلمہ قرآن میں ہو اور معنی قریب نہ ہو، تو نماز فاسد ہے، جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

إن كان مثله  في  القرآن و المعنى بعيد و لم يكن متغيرا فاحشا تفسد أيضا عند أبي حنيفة و محمد، و هو الأحوط

ترجمہ: اگر اس کا مثل قرآن میں ہو، معنی بعید ہو، لیکن بہت زیادہ بعید نہ ہو، تو اِس صورت میں بھی امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی کے نزدیک نماز فاسد ہوجائے گی اور یہی احوط ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 474، مطبوعہ کوئٹہ)

اور امام اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہی احوط قول مفتی بہ ہے، جس کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ”بحالتِ فسادِ معنی، فسادِ نماز کا حکم مذکور ہمارے امام صاحب مذہب اور ان کے اتباع ائمہ متقدمین رضی اللہ تعالٰی عنہم کا مذہب تھا اور وہی احوط و مختار ہے، اجلّہ محققین نے اُسی کی تصریح فرمائی۔

و معلوم ان الفتوی متی اختلف وجب الرجوع الی قول الامام کما نص علیہ فی البحرو الدر و حواشیہ و غیرھا من اسفار الکرم

ترجمہ: اور یہ بات معلوم ہے کہ جب اختلاف ہو ، تو فتوی میں قولِ امام کی طرف رجوع کیا جائے گا، جیسا کہ اس پربحر ، در اور دیگر کتب میں تصریح موجود ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 431، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ”ایک لفظ کے بدلے میں دوسرا لفظ پڑھا، اگر معنی فاسد نہ ہوں، نماز ہو جائے گی جیسے عَلِیْمٌ کی جگہ حَکِیْمٌ، اور اگر معنی فاسد ہوں، نماز نہ ہوگی، جیسے

﴿وَعْدًا عَلَیْنَا ط اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ﴾

میں فَاعِلِیْنَ کی جگہ غَافِلِیْنَ پڑھا۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 556، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-9584

تاریخ اجراء: 04جمادی الاولی 1447ھ / 27 اکتوبر2025ء