قراءت میں لفظ بے معنی ہو جائے تو نماز ہوجائیگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قراءت کی غلطی سے لفظ بے معنیٰ ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں دورانِ قراءت کبھی ایسی غلطی واقع ہو جاتی ہے جس سے معنی فاسد نہیں ہوتے، بلکہ الفاظ مہمل ( بے معنی) ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ تو معلوم ہے کہ اگر قراءت کی غلطی سے معنی فاسد ہو جائیں تو نماز فاسد ہو جاتی ہے، لیکن اگر غلطی کی وجہ سے معنی فاسد ہونے کے بجائے صرف مہمل ہو جائیں تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہوگا؟ اس بارے میں رہنمائی فرمادیں۔
سائل: (محمد شہباز عطاری، فیصل آباد)
جواب
قوانینِ شرعیہ کے مطابق دورانِ نماز قراءت میں ایسی غلطی جس کے نتیجے میں لفظ مہمل اور بے معنی ہو جائے، تواس کا حکم بھی معنی فاسد ہو جانے کی مثل ہے، یعنی اس صورت میں بھی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
نماز فاسد کرنے والی صورتوں میں سے ایک صورت لفظ کا مہمل و بے معنی ہوجانا بھی ہے، جیساکہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
كذا إذا لم يكن مثله فی القرآن ولا معنى له كالسرائل باللام مكان السرائر
ترجمہ: اسی طرح جب اس کی مثل قرآن میں نہ ہو اور اس لفظ کا کوئی معنی (بھی) نہ ہو (تو یہ صورت بھی نماز کو فاسد کر دے گی)، جیسے السرائر کی جگہ لام کے ساتھ السرائل۔ (رد المحتار علی در المختار، جلد 2، صفحہ 474، مطبوعہ کوئٹہ)
مذکورہ عبارت کے الفاظ ولا معنی لہ کالسرائل کے تحت امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:
قلت: و ھذ امن اکثرما یقع لان الناس کثیراً ما لا یمیزون بین المخارج و یقرءون التاء مکان الطاء والھاء مکان الحاء و امثال ذلک و بھذا التغییر کثیراً ما یبقی اللفظ مھملاً لا معنی لہ کالصرات مکان الصراط والھق مکان الحق فتفسد الصلاۃ
یعنی میں کہتا ہوں: اور یہ (لفظ کا مہمل ہونا) ایسی غلطیوں میں سے ہے جو بہت زیادہ واقع ہوتی ہیں، کیونکہ لوگ اکثر حروف کے مخارج میں تمیز نہیں کرتے اور تاء کو طاء کی جگہ اور ہاء کو حاء کی جگہ پڑھ دیتے ہیں اور اسی طرح کی دوسری مثالیں بھی ہیں اور اس تبدیلی کی وجہ سے زیادہ تر لفظ مہمل ہو جاتا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ہوتا، جیسے الصراط کی جگہ الصرات اور الحق کی جگہ الھق، لہذا ایسی صورت میں نماز فاسدہوجاتی ہے۔(جد الممتار علی رد المحتار، جلد 3، صفحہ 372، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: دوسرے وہ کہ جس کلمہ پر رکتے ہیں اسی کے اول حرف کی تکرار کرتے ہیں، اس صورت میں اگرچہ حرف خارج نہیں بڑھتا، بلکہ اسی کلمہ کا ایک جزو مکرر ادا ہوتا ہے، مگر ازانجا کہ حرف بوجہ تکرار لغو و مہمل و خارج عن القرآن رہ گیا، ان کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 452، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9864
تاریخ اجراء: 26 رمضان المبارک 1447ھ / 16 مارچ 2026ء