logo logo
AI Search

سدل کی تعریف اور مختلف صورتیں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سدل کی تعریف اور کب کب سدل شمار ہوگا ؟ تفصیلی فتوی

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

سدل کا مفہوم کیا ہے؟ کتنی صورتیں ہیں اور ممانعت کا کیا حکم ہے؟ اس میں اختلاف اقوال ہے یا نہیں؟ کیونکہ سنا ہے کہ بعض ائمہ احناف کا قول یہ ہے کہ سدلِ ثوب اس صورت میں مکروہ تحریمی ہے جبکہ نیچے سے قمیص، بنیان کچھ بھی نہ پہنا ہو، ورنہ اگر قمیص وغیرہ پہنی ہوئی ہو تو سدلِ ثوب مکروہ تحریمی نہیں۔کیا یہ درست ہے؟

جواب

سدل کے لغوی معنی: ڈھیلا چھوڑنے اور لٹکانے کے ہیں۔ سدل کی فقہی تعریف یہ ہے کہ کپڑے کو معتاد طریقے سے پہنے بغیر لٹکادینا۔ جیسے قمیص، کرتے وغیرہ کی آستین میں ہاتھ ڈالے بغیر اسے کندھوں پر رکھ لینا۔

سدل کی مزید چند صورتیں: (1) چادر، رومال، شال وغیرہا کے دونوں کناروں کو آپس میں ملائے بغیر سراور کندھوں پر، یا صرف کندھوں پر ڈال دینا، (2) یا اس کے دونوں کناروں کو آپس میں ملائے بغیر آگے سینے کی جانب لٹکادینا، (3) یا ایک کنارہ آگے کی جانب اور دوسرا کنارہ پیچھے کی جانب لٹکادینا۔ اس طرح کی تمام صورتیں سدل میں داخل ہیں ۔

نماز میں سدل مکروہ تحریمی، ناجائزو گناہ ہے، اس حالت میں پڑھی گئی نماز کو لوٹانا واجب ہے اور فقہِ حنفی میں سدل ہر حال میں مکروہِ تحریمی ہے، چاہے آدمی نے قمیص اور شلوار پہن رکھی ہو یا نہ پہن رکھی ہو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے مطلقاً سدل سے ممانعت فرمائی ہے، لہذا اس کی دونوں صورتیں مکروہ تحریمی ہیں ، البتہ دونوں صورتوں میں کراہت کی وجہ مختلف ہے۔ بغیر قمیص اور شلوار کے سدل کرنے میں ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ رکوع اور سجدے کے دوران ستر کھل جانے کا قوی اندیشہ ہے، لہذا اس صورت میں سدل کی کراہت، ستر کے ظاہر ہونے کے احتمال کی وجہ سے ہے، جبکہ قمیص اور شلوار کے اوپر سدل کرنااہل کتاب کا طریقہ ہے، لہذا اس میں اہلِ کتاب کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے کراہت ہے۔ بہر حال ائمہ احناف کے درمیان قمیص اور شلوار کے ساتھ یا اس کے بغیر سدل کے مکروہ ہونے نہ ہونے سے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب قول کے مطابق سدل اسی وقت مکروہ ہے کہ آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو جس کو وہ لٹکائے، لیکن اگر قمیص کے اوپر سدل کرے تو کوئی حرج نہیں۔ مگر یہ احناف کا مذہب نہیں، بلکہ صرف امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔

منیۃ المصلی اور اس کی شرح غنیۃ المتملی میں ہے:

’’(و)یکرہ ایضا( ان یسدل) ثوبہ أی یرسلہ من غیر ان یلبسہ وھو ای السدل (ان یضعہ أی الثوب علی کتفہ ویرسل اطرافہ علی عضدیہ) أو علی صدرہ ( وفی القدوری) شرح مختصر الکرخی (ھو ان یجعل الثوب) علی رأسہ أو کتفیہ (ورسل اطرافہ من جوانبہ) وفي فتاوى قاضي خان: هو أن يجعل الثوب على رأسه أو على عاتقه ويرسل جانبيه أمامه على صدره والكل یصدق علیہ حدالسدل وھو الارسال من غیر لبس فان السدل فی اللغۃ الارخاء والارسال۔۔۔ووجہ کراھۃ السدل ما مر عن ابی ھریرۃ انہ علیہ السلام نھی عن السدل فی الصلوۃ وأن یغطی الرجل فاہ اخرجہ ابو داؤد والحاکم وصححہ ولان فیہ شغل القلب یحمل شئی فی الصلوۃ لافائدۃ فیہ‘‘

 ترجمہ: اور (نماز میں) یہ بھی مکروہ ہے کہ آدمی اپنا کپڑا لٹکائے، یعنی اسے پہنے بغیر چھوڑ دے۔ اور سدل (کپڑا لٹکانا) یہ ہے کہ کپڑے کو اپنے کندھوں پر رکھے اور اس کے کناروں کو اپنے بازوؤں پر چھوڑ دے، یا اسے سینے پر ڈال دے۔ اور قدوری شرح مختصر الکرخی میں ہے کہ سدل یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو اپنے سر یا کندھوں پر رکھے اور اس کے کناروں کو اپنے اطراف میں لٹکا دے۔ اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ سدل یہ ہے کہ کپڑے کو سر یا کندھے پر رکھے اور اس کے دونوں کناروں کو سامنے سینے پر لٹکا دے۔ یہ سب صورتیں سدل کی تعريف میں داخل ہیں اور وه کپڑے کو بغیر پہنے لٹکا دینا ہے؛ کیونکہ لغت میں سدل کے معنی ڈھیلا چھوڑنے اور لٹکانے کے ہیں۔ اور سدل کے مکروہ ہونے کی وجہ وہی ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے اور آدمی کے اپنے منہ کو ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے، اسے ابو داؤد اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ نیز اس میں دل کے مشغول ہونے کا بھی سبب ہے، کیونکہ آدمی نماز میں ایک ایسی چیز اٹھائے رکھتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ (منیۃ المصلی مع غنیۃ المتملی، ص302، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ  فتاوی رضویہ میں ارشادفرماتے ہیں:

’’اصل یہ ہے کہ سدل یعنی پہننے کے کپڑے کو بے پہنے لٹکانا، مکروہ تحریمی ہے اور اس سے نماز واجب الاعادہ جیسے انگر کھایا کرتا کندھوں پرسے ڈال لینا بغیر آستینوں میں ہاتھ ڈالے یابعض بارانیاں وغیرہ ایسی بنتی ہیں کہ اُن کی آستینوں میں مونڈھوں کے پاس ہاتھ نکال لینے کے چاک بنے ہوتے ہیں ان میں سے ہاتھ نکال کر آستینوں کو بے پہنے چھوڑدینایا رضائی یاچادر کندھے یاسر پر ڈال کردونوں آنچل چھوڑدینا یاشال یا رومال ایک شانہ پراس طرح ڈالنا کہ اس کے دونوں پلّو آگے پیچھے چھوٹے رہیں اور اگر رضائی یا چادر کا مثلاً سیدھا آنچل بائیں شانے پرڈال لیا اور بایاں آنچل چھوڑدیا توحرج نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 07، ص385، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

فقہِ حنفی میں سدل ہر حال میں مکروہِ تحریمی ہے، چاہے آدمی نے قمیص اور شلوار پہن رکھی ہو، یا نہ پہن رکھی ہو، مذہب احناف کی کثیر معتمد کتب میں اس کی صراحت موجود ہے، جیسا کہ بحر الرائق میں ہے:

’’وعن أبي حنيفة أنه ‌يكره ‌السدل على القميص وعلى الإزار وقال لأنه صنيع أهل الكتاب فإن كان السدل بدون السراويل فكراهته لاحتمال كشف العورة عند الركوع وإن كان مع الإزار فكراهته لأجل التشبه بأهل الكتاب فهو مكروه مطلقا سواء كان للخيلاء أو لغيره للنهي من غير فصل‘‘

اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ  سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: قمیص پر بھی سدل کرنا مکروہ ہے اور ازار (تہبند) پر بھی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی کہ یہ اہلِ کتاب کا طریقہ ہے۔ پھر اگر سدل بغیر شلوار کے ہو تو اس کی کراہت اس احتمال کی وجہ سے ہے کہ رکوع کے وقت ستر کھل سکتا ہے، اور اگر ازار کے ساتھ ہو تو اس کی کراہت اہلِ کتاب سے مشابہت کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا سدل ہر حال میں مکروہ ہے، چاہے تکبر کی نیت سے ہو یا بغیر تکبر کے، کیونکہ ممانعت مطلق آئی ہے، اس میں اس طرح کی کوئی تفصیل نہیں کی گئی۔ (بحر الرائق، ج02، ص 26، مطبوعہ کوئٹہ )

بدائع الصنائع میں ہے:

’’وروي عن الأسود وإبراهيم النخعي أنهما قالا: السدل يكره سواء كان عليه قميص أو لم يكن وروى المعلى عن أبي يوسف عن أبي حنيفة أنه يكره ‌السدل ‌على ‌القميص وعلى الإزار وقال: لأنه صنع أهل الكتاب، فإن كان السدل بدون السراويل فكراهته لاحتمال كشف العورة عند الركوع والسجود وإن كان مع الإزار فكراهته لأجل التشبه بأهل الكتاب وقال مالك: لا بأس به كيفما كان وقال الشافعي إن كان من الخيلاء يكره وإلا فلا، والصحيح مذهبنا؛ لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن السدل من غير فصل‘‘

اور اسود اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ دونوں نے فرمایا: سدل مکروہ ہے، خواہ اس کے اوپر قمیص ہو یا نہ ہو۔ اور مُعلّٰی نے امام ابو یوسف کے واسطے سے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے کہ قمیص اور ازار دونوں پر سدل مکروہ ہے، اور فرمایا کہ یہ اہلِ کتاب کا طریقہ ہے۔ پس اگر سدل بغیر شلوار کے ہو تو اس کی کراہت اس وجہ سے ہے کہ رکوع اور سجدہ میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہے، اور اگر ازار کے ساتھ ہو تو اس کی کراہت اہلِ کتاب سے مشابہت کی وجہ سے ہے۔ اور امام مالک نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے بھی ہو۔ اور امام شافعی نے فرمایا: اگر تکبر کی وجہ سے ہو تو مکروہ ہے، ورنہ نہیں۔ اور صحیح ہمارا (حنفی) مذہب ہے، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے سدل سے مطلقاً منع فرمایا، بغیر کسی تفصیل کے۔ (بدائع الصنائع، ج 01، ص 219، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

تنویر الابصار و درمختار میں ہے:

’’(وکرہ )۔۔۔(سدل) تحريما للنهي (ثوبه) أي إرساله بلا لبس معتاد۔ملخصاً‘‘

ترجمہ: اور(نماز) میں اپنے کپڑے کو لٹکانا، یعنی اسے معمول کے طریقے سے پہنے بغیر لٹکا دیناممانعت کی وجہ سے مکروہِ تحریمی ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے:

’’وقال في البحر: وفسره الكرخي بأن يجعل ثوبه على رأسه أو على كتفيه ويرسل أطرافه من جانبه إذا لم يكن عليه سراويل اهـ فكراهته ‌لاحتمال ‌كشف ‌العورة، وإن كان مع السراويل فكراهته للتشبه بأهل الكتاب، فهو مكروه مطلقا‘‘

اور بحر میں فرمایا: امام کرخی نے اس (سدل) کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ آدمی اپنا کپڑا اپنے سر پر یا اپنے کندھوں پر رکھے اور اس کے کناروں کو اپنی ایک جانب لٹکا دے، جبکہ اس کے نیچے شلوار نہ ہو۔پس اس صورت میں اس کی کراہت ستر کے کھل جانے کے احتمال کی وجہ سے ہے، اور اگر شلوار کے ساتھ ہو تو اس کی کراہت اہلِ کتاب کی مشابہت کی وجہ سے ہے، لہٰذا یہ مطلقاً مکروہ ہے۔ (تنویر الابصار و درمختار مع ردالمحتار، ج 02، ص 488، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’ان السدل سدل وان کان فوق القمیص‘‘

سدل، سدل ہی ہوتاہے اگرچہ قمیص پر ہو۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 360، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

قمیص کے اوپر سدل کے مکروہ نہ ہونے کا قول صرف امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ کا ہے، چنانچہ جامع ترمذی میں ہے:

’’وقد اختلف أهل العلم في السدل في الصلاة، فكره بعضهم السدل في الصلاة، وقالوا: هكذا تصنع اليهود، وقال بعضهم: إنما كره السدل في الصلاة إذا لم يكن عليه إلا ثوب واحد، فأما إذا سدل على القميص فلا بأس وهو قول أحمد، وكره ابن المبارك السدل في الصلاة ‘‘

اہلِ علم کا نماز میں سدل کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے نماز میں سدل کو مکروہ کہا اور فرمایا کہ یہود اسی طرح کرتے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ نماز میں سدل اسی وقت مکروہ ہے جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو، لیکن اگر قمیص کے اوپر سدل کرے تو کوئی حرج نہیں، اور یہی امام احمد بن حنبل کا قول ہے۔اور عبداللہ بن مبارک نے بھی نماز میں سدل کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (جامع ترمذی، ج 2، ص217، رقم الحدیث: 378، مطبوعہ بیروت)

جامع ترمذی کے حوالے سے حلبۃ المجلی شرح منیۃ المصلی میں ہے:

’’وفي شرح الزاهدي قال أبو سليمان: السدل: إرسال الثوب حتى يصيب الأرض. ثم في البدائع وروي عن الأسود وإبراهيم النخعي أنهما قالا: السدل يكره، سواء كان عليه قميص أو لم يكن.وروى المعلى عن أبي يوسف أنه يكره السدل على القميص وعلى الإزار، وقال: لأنه صنيع أهل الكتاب، فإن كان السدل بدون السراويل، وكراهته لاحتمال كشف العورة عند الركوع. وإن كان مع الإزار، فكراهته لأجل التشبه بأهل الكتاب. وعن محمد مثل ما عن أبي يوسف، ذكره في الخلاصة. وفي جامع الترمذي وقد اختلف أهل العلم في السدل في الصلاة، فكره بعضهم السدل في الصلاة وقالوا: هكذا تصنع اليهود. وقال بعضهم: إنما كره السدل إذا لم يكن عليه إلا ثوب واحد، فأما إذا سدل على القميص، فلا بأس، وهو قول محمد۔"

اور شرح الزاہدی میں ابو سلیمان نے فرمایا: سدل کا معنی کپڑے کو لٹکانا ہے یہاں تک کہ وہ زمین تک پہنچ جائے۔ پھر بدائع میں ہے اور اسود اور ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: سدل مکروہ ہے، خواہ آدمی کے بدن پر قمیص ہو یا نہ ہو۔ اور مُعلّی نے امام ابو یوسف سے روایت کیا ہے کہ قمیص کے اوپر اور ازار (تہبند) کے ساتھ بھی سدل مکروہ ہے، اور فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اہلِ کتاب کا طریقہ ہے۔ پس اگر سدل بغیر شلوار کے ہو تو اس کی کراہت رکوع کے وقت ستر کھل جانے کے احتمال کی وجہ سے ہے۔ اور اگر ازار کے ساتھ ہو تو اس کی کراہت اہلِ کتاب سے مشابہت کی وجہ سے ہے۔ اور امام محمد سے بھی وہی مروی ہے جو امام ابو یوسف سے منقول ہے، اسے خلاصہ میں ذکر کیا ہے۔ اور جامع ترمذی میں ہے کہ اہلِ علم کا نماز میں سدل کے بارے میں اختلاف ہے: بعض نے نماز میں سدل کو مکروہ کہا اور فرمایا کہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔ اور بعض نے کہا کہ سدل اسی وقت مکروہ ہے جب آدمی کے پاس ایک ہی کپڑا ہو، لیکن اگر قمیص کے اوپر سدل کرے تو کوئی حرج نہیں، اور یہی قول امام محمد کا ہے۔ (حلبۃ المجلی، ج 2، ص 240، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

(1)یہاں حلبہ میں جامع ترمذی کے حوالے سے قمیص کے اوپر سدل کی نفی کو امام محمد کے قول کی طرف منسوب کردیا گیا ہے، جبکہ خود جامع ترمذی میں اس کو امام احمد علیہ الرحمۃ  کا قول فرمایا گیا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔لہذا یہاں کتابت کی غلطی سے ’’احمد‘‘ کی جگہ ’’محمد‘‘ لکھ دیا گیا ہے۔

(2) حلبہ کے نسخے میں کتابت کی غلطی پر ایک واضح دلیل خود اس عبارت میں موجود ہے

"وعن محمد مثل ما عن أبي يوسف، ذكره في الخلاصة"

اس میں پہلے امام ابویوسف علیہ الرحمۃ  کا مؤقف بیان کیا کہ آپ رحمہ اللہ کے نزدیک سدل کی دونوں صورتیں مکروہ تحریمی ہیں پھر خلاصۃ الفتاوی کے حوالے سے بیان کیا کہ امام محمد علیہ الرحمۃ سے بھی وہی مروی ہے جو امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کا مؤقف ہے یعنی سدل بہر صورت مکروہ تحریمی ہے۔ پھر آگے چل کر یہ کہنا کہ قمیص پر سدل کرنے میں امام محمد کے نزدیک کوئی حرج نہیں اس سے بھی کتابت کی غلطی واضح ہوجاتی ہے۔

(3)خلاصۃ الفتاوٰی میں صراحت موجود ہے کہ قمیص کے اوپر سدل کرنا امام محمد علیہ الرحمۃ کے نزدیک بھی مکروہ ہے، چنانچہ خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

’’السدل مکروہ وعن محمد رحمہ اللہ سواء کان تحتۃ قمیص او لا‘‘

سدل (کپڑا لٹکانا) مکروہ ہے اور امام محمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ یہ برابر ہے، چاہے اس کے نیچے قمیص ہو یا نہ ہو۔ (خلاصۃ الفتاوٰی، ج 01، ص 58، مطبوعہ کوئٹہ)

یہاں بالکل صراحت کے ساتھ امام محمد علیہ الرحمۃ کا مذہب یہ بیان کیا گیا کہ قمیض کے اوپر بھی سدل مکروہ ہے، جس سے حلبہ کی عبارت میں قمیص کے اوپر سدل نہ ہونے  کی امام محمد علیہ الرحمۃ کی طرف نسبت کا غلط ہونا اور کتابت کی غلطی ہونا ظاہر ہوگیا۔

(4)قمیص ہونے کی صورت میں عدم کراہت کا قول صرف امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ کا ہے، کثیر شروح حدیث میں اس قول کی نسبت صرف امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ کی طرف کی گئی ہے جیسا کہ شرح السنہ للبغوی، شرح سنن ابی داؤد، شرح مشکوۃ وغیرہ میں صراحت موجود ہے۔ اگر امام محمد علیہ الرحمۃ کا مذہب بھی یہی ہوتا تو لازمی طور پر کہیں نہ کہیں ضرور بیان کیا جاتا۔ لہذا امام محمد علیہ الرحمۃ کی طرف عدم کراہت کی نسبت درست نہیں ہے۔

چنانچہ شرح سنن ابی داؤد میں ہے:

’’وقال أحمد: إنما يكره السدل في الصلاة إذا لم يكن عليه إلا ثوب واحد، ‌فأما ‌إذا ‌سدل ‌على ‌القميص فلا بأس‘‘

اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا: نماز میں سدل اسی وقت مکروہ ہے جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو، لیکن اگر قمیص کے اوپر (مزید کپڑا) لٹکائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (شرح سنن ابی داؤد لابن رسلان، ج 04، ص 94، مطبوعہ دار الکتب الاسلامی، بیروت)

شرح السنۃ للبغوی میں ہے:

’’وقال أحمد: إنما يكره السدل في الصلاة إذا لم يكن عليه إلا ثوب واحد، فأما ‌إذا ‌سدل ‌على ‌القميص فلا بأس‘‘

اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا: نماز میں سدل اسی وقت مکروہ ہے جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو، لیکن اگر قمیص کے اوپر (مزید کپڑا) لٹکائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (شرح السنۃ للبغوی، ج 02، ص 428، مطبوعہ دار الکتب الاسلامی، بیروت)

شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ "لمعات التنقيح فی شرح مشكاة المصابيح" میں فرماتے ہیں:

’’إنه قد قيل: إنما ‌كره ‌السدل ‌إذا ‌لم ‌يكن ‌عليه ‌إلا ‌ثوب ‌واحد، كما ذكر الترمذي في (جامعه)، ولكن ليس هذا من مذهب الحنفية، كما ذكره السغناقي‘‘

یہ بھی کہا گیا ہے کہ سدل اسی وقت مکروہ ہے جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو، جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں ذکر کیا ہے، لیکن یہ حنفیہ کا مذہب نہیں ہے، جیسا کہ سغناقی نے بیان کیا ہے۔ (لمعات التنقیح، ج 2، ص 512، دار النوادر، دمشق)

مذکورہ بالا عبارت میں شیخ محقق علیہ الرحمۃ نے نہایت صراحت کے ساتھ یہ بیان فرمادیا ہے کہ قمیص پر سدل مکروہ نہ ہونے کا قول یہ احناف کا مذہب نہیں ہے، جس سے بالکل واضح ہوگیا کہ احناف کے نزدیک یہ اختلافی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دونوں صورتوں کے مکروہ و ممنوع ہونے پر ائمہ احناف کا اتفاق ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد محمد سرفراز اختر العطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: 1644-Mul
تاریخ اجراء: 17 شوال المکرم 1447 ھ/06 اپریل 2026 ء