logo logo
AI Search

سجدہ شکر کا طریقہ نیز اسکے لئے وضو ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سجدۂ شکر کرنے کا طریقہ؟ اور کرتے وقت باوضو ہونا ضروری ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت حاصل ہو یا خوشی کی خبر ملے، تو سجدۂ شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اس سجدۂ شکر کو ادا کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟ نیز کیا اس کی ادائیگی کے لیے باوضو ہونا اور قبلہ رُخ ہونا بھی ضروری ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔

سائل: (محمد احسن، فیصل آباد)

جواب

کسی نعمت کے حصول پر سجدۂ شکر ادا کرنا مستحب ہےاوراس کا طریقہ وہی ہے جو سجدۂ تلاوت کا طریقہ ہے۔ سجدۂ تلاوت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہوکر اللہ اکبر کہتا ہوا سجدے میں جائے اورسجدے میں کم از کم تین بار سبحن ربی الاعلیٰ کہے، پھر اللہ اکبر کہتا ہوا سجدے سے کھڑا ہو جائے۔ دونوں بار اللہ اکبر کہنا سنت اور کھڑے ہوکر سجدے میں جانا اور سجدے کے بعد کھڑا ہونا، یہ دونوں قیام مستحب ہیں۔

نیز سجدۂ تلاوت کی طرح سجدۂ شکر کی ادائیگی کے لئے بقیہ شرائط کے ساتھ ساتھ طہارتِ کاملہ یعنی حدث اصغر (جن چیزوں سےصرف وضو لازم ہو) و حدث اکبر (جن چیزوں سے غسل لازم ہو) دونوں سے پاک ہونا اور استقبالِ قبلہ (قبلہ رُخ ہونا) بھی شرط ہے، ورنہ سجدۂ شکر ادا نہیں ہوگا۔

سجدۂ شکر کی ادائیگی کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

و ھی لمن تجددت عندہ نعمۃ ظاھرۃ اورزقہ اللہ تعالیٰ مالا او ولدا او اندفعت عنہ نقمۃ و نحو ذالک، یستحب لہ ان یسجد للہ تعالیٰ شکرا مستقبل القبلۃ یحمد اللہ تعالی فیھا و یسبحہ ثم یکبر فیرفع رأسہ کما فی سجدۃ التلاوۃ

ترجمہ: سجدہ شکر اس شخص کےلیے ہے جسےکوئی نعمت ملے یا اللہ عزوجل اسے مال یا اولاد عطا کرے یا اس سے کوئی مصیبت دور ہوئی ہو، اور اسی کی مثل دیگر نعمتوں کے ملنے پر۔ اس شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قبلہ کی طرف منہ کرکے بطورِ شکر اللہ عزوجل کو سجدہ کرے، سجدے میں اللہ عزوجل کی حمد بیان کرے، اس کی تسبیح بیان کرے، پھر اللہ اکبر کہتا ہوا سجدے سے سر اٹھائے، جیساکہ سجدۂ تلاوت میں کرتا ہے۔ (رد المحتار علی در المختار، جلد 02، صفحہ 720، مطبوعہ کوئٹہ)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: سجدۂ شکر مثلاً اولاد پیدا ہوئی یا مال پایا یا گمی ہوئی چیز مل گئی یا مریض نے شفا پائی یا مُسافر واپس آیا غرض کسی نعمت پر سجدہ کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو سجدۂ تلاوت کا ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 01، صفحہ 738، 739 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

اور سجدۂ تلاوت کا طریقۂ کار بیا ن کرتے ہوئے لکھتے ہیں: سجدہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اَللہُ اَکْبَرْ کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے، پھر اَللہُ اَکْبَرْ کہتا ہوا کھڑا ہو جائے، پہلے پیچھے دونوں بار اَللہُ اَکْبَرْ کہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب۔ (بہارِ شریعت، جلد 01، صفحہ 731، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

سجدۂ تلاوت کی شرائط کے متعلق حلبۃ المجلی میں ہے:

شرائط جوازھا ما ھو شرائط جواز الصلاۃ من الطھارۃ من الاحداث والانجاس بدنا ثوبا و مکانا و ستر العورۃ و استقبال القبلۃ۔

ترجمہ: سجدۂ تلاوت کےصحیح ہونے کی شرائط وہی ہیں جو نماز کے جائز ہونے کی ہیں یعنی بدن، کپڑے اورجگہ کا حدث اور نجاست سے پاک ہونا، ستر عورت اور استقبالِ قبلہ۔ (حلبۃا لمجلی ، جلد 1، صفحہ 590، مطبوعہ بیروت)

امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مقصودہ مشرو طہ، جیسے نماز، نماز جنازہ ،سجدہ تلاوت، سجدہ شکر، کہ سب مقصود بالذات ہیں اور سب کےلیے طہارت کاملہ شرط یعنی نہ حدث اکبر ہو نہ اصغر۔ (فتاوی رضویہ، جلد 03، صفحہ 452، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9873
تاریخ اجراء: 08 شوال المکرم 1447ھ / 28 مارچ 2026ء