logo logo
AI Search

دو سجدوں کے درمیان تعدیل چھوڑنا کیسا؟

دو سجدوں کے درمیان سبحان اللہ کی مقدار نہ ٹھہرنے سے نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر کوئی شخص بھول کر دو سجدوں کے مابین تعدیل نہ کرسکا، تو کیا سجدہ سہو کرنا پڑے گا یا نماز واجب الاعادہ ہوگی؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

دو سجدوں کے درمیان کم ازکم ایک بار ”سبحان اللہ“ کہنے کی مقدار ٹھہرنا ”واجب“ ہے۔ فقہ کی زبان میں اِسے ”تعدیل“ کہتے ہیں۔ اگر کوئی نمازی بھول کر تعدیلِ رکن چھوڑ دے، یعنی دو سجدوں کے درمیان ایک مرتبہ ”سبحان اللہ“ کہنے کی مقدار بھی نہ بیٹھے، تو اُس پر سجدہِ سہو واجب ہے، البتہ اگر کوئی جان بوجھ کر تعدیلِ ارکان نہ کرے تو نماز واجب الاعادہ ہو گی، یعنی اُس نماز کو دوبارہ پڑھنا ضروری ہو گا۔

تعدیلِ رکن واجب اور سہواً چھوڑنے پر سجدہ  سہو لازم ہونے کے متعلق علامہ کاسانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

ثم الطمأنينة في الركوع واجبة عند أبي حنيفة ومحمد، كذا ذكره الكرخي حتى لو تركها ساهيا يلزمه سجود السهو۔۔۔ و كذا القومة التي بين الركوع و السجود و القعدة التي بين السجدتين، و الصحيح ما ذكره الكرخي؛ لأن الطمأنينة من باب إكمال الركن، و إكمال الركن واجب كإكمال القراءة بالفاتحة، ألا ترى أن النبي صلى اللہ عليه وسلم ألحق صلاة الأعرابي بالعدم۔

ترجمہ: رکوع میں اطمینان (تعدیل) طرفین رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہما کے نزدیک واجب ہے، جیسا کہ امام کرخی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ذکر کیا ہے، لہذا اگر کوئی اِسے بھول کر ترک کر دے تو اس پر سجدہ سہو لازم آتا ہے۔ اسی طرح رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا (قومہ) اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا (جلسہ) بھی (ایک تسبیح کے برابر) واجب ہے۔ اور قولِ صحیح وہی ہے جو امام کرخی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ذکر کیا ہے؛ کیونکہ ”تعدیل“ کسی رکن کو مکمل کرنے کے قبیل سے ہے اور رکن کو مکمل کرنا واجب ہوتا ہے، جیسے فاتحہ کے ساتھ قراءت کو مکمل کرنا واجب ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نبی اکرم ﷺ نے اُس اعرابی کی نماز کو کالعدم یعنی نامکمل قرار دیا تھا۔ (جس کی نماز تعدیل واطمینان سے خالی تھی۔) (بدا ئع الصنائع، جلد 01، کتاب الصلاة، صفحة 162، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوٰی عالَم گیری میں ہے:

تعديل  الأركان وهو الطمأنينة في الركوع والسجود و قد اختلف في وجوب السجود بتركه بناء على أنه واجب أو سنة و المذهب الوجوب و لزوم السجود بتركه ساهيا و صححه في البدائع، كذا في البحر الرائق۔

ترجمہ: (نماز کے واجبات میں سے) تعدیل ارکان بھی ہے، یعنی رکوع اور سجدہ میں اطمینان کرنا۔ اِسے سہواً چھوڑنے پر سجدہ سہو واجب ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔ وجہِ اختلاف یہ ہے کہ کیا تعدیل واجب ہے یا سنّت اور قولِ صحیح یہ ہے کہ واجب ہے اوراسے بھول کر چھوڑنے کے سبب سجدہ سہو لازم ہوگا۔ اِسی قول کی صاحبِ بدائع نے تصحیح فرمائی اور ایسا ہی ”بحر الرائق“ میں ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 01، صفحہ 127، مطبوعہ مکتبۃ رشیدیۃ)

اگر جان بوجھ کر تعدیلِ رکن کو ترک کیا تو نماز ہی دوبارہ پڑھنا لازم ہو گی، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: واجباتِ نماز سے ہر واجب کے ترک کا یہی حکم ہے کہ اگر سہواً ہو تو سجدہ سہو واجب اور اگر سجدہ سہو نہ کیا یا قصداً واجب کو ترک کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 01، صفحہ 276، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-9586

تاریخ اجراء: 05 جمادی الاولی1447ھ/ 27 اکتوبر 2025ء