logo logo
AI Search

سنتوں کی تیسری چوتھی رکعت میں سورت ملانا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سنتوں کی تیسری، چوتھی رکعت میں سورت ملانے کاحکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جمعہ کی فرض کے بعد والی سنتوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں، سورہ فاتحہ کے بعد، آیت ملانا ضروری ہے یانہیں؟

جواب

فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے سوا باقی ہر نماز (چاہے نفل ہو یا سنت یا وتر) کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد چھوٹی سورت ملانا، یا قرآنِ پاک کی ایک بڑی آیت، جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو، یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا واجب ہے۔ لہذا جمعہ کے بعد پڑھی جانے والی سنتوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد چھوٹی سورت یا چھوٹی تین آیات، یا ایک بڑی آیت، جو چھوٹی تین آیات کے برابر ہو، اس کاملانا ضروری ہے۔ درمختار میں ہے

"(ولها واجبات)۔۔۔(وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار"

ترجمہ: نماز کے کچھ واجبات ہیں: (ان میں سے ایک) کسی چھوٹی سورت کو فاتحہ کےساتھ ملانا ہے جیسے سورۃ الکوثر یا جو اس چھوٹی سورت کے قائم مقام ہو اور وہ تین چھوٹی آیات ہیں۔ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 181، 185، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے

"وتجب قراءةالفاتحةوضم السورةاومايقوم مقامهامن ثلاث آيات قصاراوآيةطويلةفی الأوليين بعدالفاتحة كذافی النهرالفائق وفی جميع ركعات النفل والوتر"

ترجمہ: اور سورت فاتحہ پڑھنا اور سورت ملانایا اس کے قائم مقام قراءت کرنا یعنی تین چھوٹی آیات یا ایک بڑی آیت پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد پڑھنا واجب ہے جیسا کہ نہر الفائق میں ہے اور وتر اور نفل کی تمام رکعتوں میں واجب ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 78، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

نورالایضاح میں نماز کی شرائط کے بیان میں ارشاد فرماتے ہیں:

"القراءۃ فرض فی کل رکعات النفل"

ترجمہ: نفل کی تمام رکعات میں قراءت فرض ہے۔ (نورالایضاح، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ وارکانھا، صفحہ 128، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مذکورہ بالا عبارت میں ”فی کل ركعات النفل“کے تحت حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے

"المرادبہ ما زاد على الفرائض ولوكان مؤكدا"

ترجمہ: اس سے مرادوہ ہے، جوفرائض سے زائد ہے، اگرچہ سنت موکدہ ہو۔ (حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 227، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ وارکانھا، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4863
تاریخ اجراء:11 شوال المکرم 1447ھ/31 مارچ 2026ء