تکبیر تحریمہ میں ہاتھ اٹھانے کا مسنون طریقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کا سنت طریقہ کیا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیرِ تحریمہ کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیا تکبیر اور ہاتھ اٹھانا ایک ساتھ ہونا چاہیے، یا پہلے تکبیر کہی جائے پھر ہاتھوں کو اٹھایا جائے؟
جواب
نماز شروع کرتے وقت تکبیرِ تحریمہ اور ہاتھ اٹھانے کا مسنون و راجح طریقہ یہ ہے کہ پہلے کانوں تک ہاتھ اٹھائے جائیں اوراس کے بعد تکبیر تحریمہ کہی جائے اور اِسی طریقے کو متعدد فقہاء کرام نے اصح قرار دیا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ ہاتھ اٹھانا غیر اللہ کی بڑائی کی نفی کرنا ہے اور تکبیر کہنا اللہ کی بڑائی کو ثابت کرنا ہے اور نفی، اِثبات پر مقدم ہوتی ہے۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے:
و الاصح انه يرفع يديه او لا ثم يكبر، لأن فعله نفي الكبرياء عن غير اللہ، و النفي مقدم على الإثبات
ترجمہ: اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ (نمازی) پہلے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے پھر تکبیر کہے؛ کیونکہ ہاتھ اٹھانے کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے کبریائی کی نفی ہے، اور (قاعدہ ہے کہ) نفی، اثبات پر مقدم ہوتی ہے۔ (الھدایہ شرح البدایۃ، جلد 1، صفحہ 307، مطبوعہ کراچی)
صاحب ہدایہ کے اِسی قول کو راجح قرار دے کر فقہاء کرام نے اختیارکیا، جیساکہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
وقته قبل التكبير، و نسبه في المجمع الى ابي حنيفة و محمد، و في غاية البيان الى عامة علمائنا، و في المبسوط الى اكثر مشايخنا و صححه في الهداية و يشهد له ما في الصحيحين عن ابن عمر قال النبي صلی اللہ علیہ و سلم: إذا افتتح الصلاة رفع يديه حتى يكونا حذو منكبيه، ثم كبر
ترجمہ: ہاتھ اٹھانے کا وقت تکبیر سے پہلے ہے مجمع میں اس قول کو امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اور غایۃ البیان میں اسے ہمارے عام علماء کا قول، اور مبسوط میں اسے اکثر مشائخ کا قول قرار دیا گیا ہے اور ہدایہ میں اسے ہی صحیح کہا گیا ہے۔ اس کی تائید صحیحین (بخاری و مسلم) میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، پھر تکبیر کہتے۔ (بحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 1، صفحہ 322، مطبوعہ دار الکتب الاسلامی، بیروت)
قول اصح کی علت کے متعلق الجوھرۃ النیرۃ میں ہے:
و الاصح انه يرفع اولا فإذا استقرتا في موضع المحاذاة كبر؛ لأن الرفع بمنزلة النفي كأنه نبذ ما سوى اللہ تعالى وراء ظهره
ترجمہ: اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ (نمازی) پہلے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر جب وہ دونوں (ہاتھ کانوں کے) برابر والی جگہ پر پہنچ کر ٹھہر جائیں تو تکبیر کہے؛ کیونکہ ہاتھ اٹھانا نفی کے درجے میں ہے، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 59، مطبوعہ ملتان)
نماز کی سنتوں کو بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: (5) تکبیر سے پہلے ہاتھ اٹھانا۔ (بہار شریعت، حصہ 3، صفحہ 521، مکتبۃ المدینہ کراچی)
یادر ہے کہ تکبیر اور ہاتھ اٹھانے کے طریقے کے متعلق دیگر اقوال بھی ہیں، جیسے (1) ایک قول یہ ہے کہ تکبیر اور ہاتھ ایک ساتھ اٹھائے جائیں (2) ایک قول یہ ہے کہ تکبیر پہلے کہی جائے اور ہاتھ بعد میں اٹھائے جائیں۔ لیکن اولی طریقہ وہی ہے جس کو اوپر تمہید میں بیان کیا گیا ہے یعنی پہلے ہاتھ اٹھائے جائیں اور اس کے بعد تکبیر کہی جائے ۔ جیسا کہ دیگر اقوال نقل کرنے کے بعد ان میں سے بہتر طریقے کو بیان کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:و الكل مروي عنه عليه الصلاة و السلام، و ما في الهداية أولى كما في البحر و النهر، و لذا اعتمده الشارح فافهم“یعنی ہاتھ اٹھانے کے یہ تمام طریقے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، لیکن جو قول ہدایہ میں ہے (یعنی پہلے ہاتھ اٹھائے جائیں اور اس کے بعد تکبیر کہی جائے) وہی اولیٰ ہے جیسا کہ بحر اور نہر میں ہے، اور اسی وجہ سے شارح نے اسی پر اعتماد کیا ہے، پس اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ (رد المحتار ،جلد 2،صفحہ 221 ،مطبوعہ کوئٹہ )
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9878
تاریخ اجراء: 11 شوال المکرم 1447ھ / 30 مارچ 2026ء