تراویح میں بھولی آیت اگلے دن پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تراویح پڑھاتے ہوئے کوئی آیت چھوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تروایح میں قرآن سناتے ہوئے اگر کوئی آیت بھول جائیں اور اس وقت یاد نہ آرہی ہو تو کیا دوسرے دن اگلے پارے کے ساتھ اس کو پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
تراویح میں پچھلی چھوٹ جانے والی آیت کو اگلے دن پڑھے جانے والے قرآن کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں، بس اتنا خیال رکھنا لازم ہے کہ پچھلی آیت اور آج جو قرآن پڑھنا ہو اس میں ترتیب قائم رہے، خلاف ترتیب تلاوت نہ ہو کہ یہ مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہے، یعنی ایسا نہ ہو کہ پہلی رکعت میں آج والی آیات پڑھ کر پھر دوسری رکعت میں پچھلی چھوٹ جانے والی آیت پڑھ دی جائے، یا ایک ہی رکعت میں پہلے آج والی آیات پڑھ کر آخر میں پچھلی چھوٹ جانے والی آیت پڑھی جائے، بلکہ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ پچھلی چھوٹ جانے والی آیت کو تراویح کی کسی بھی پہلی رکعت میں پڑھا جائے اور پھراس کے بعد آج پڑھی جانے والی آیات کو اسی پہلی رکعت ہی میں یا دوسری رکعت میں پڑھا جائے۔ یونہی اگر چند آیات پچھلی چھوٹ گئی ہوں تو ان کی تلاوت میں بھی باہم ترتیب کا خیال رکھا جائے، جو آیت پہلے ہو اُسے پہلے پڑھا جائے، پھر اس کے بعد جو آیت ہو وہ پڑھی جائے، پھر اس کے بعد جو آیت ہو، وہ پڑھی جائے۔
خلاف ترتیب قرآن پڑھنے سے متعلق در مختار مع رد المحتار میں ہے:
(و یکرہ أن یقرأ منکوسا) بأن يقرأ فی الثانیۃ سورۃ أعلی مما قرأ فی الأولی لأن ترتیب السور فی القراءۃ من واجبات التلاوۃ
ترجمہ: قرآن کو الٹا پڑھنا مکروہ ہے، اس طرح کہ دوسری رکعت میں وہ سورت پڑھے جو اُس سورت سے پہلے ہو جو پہلی رکعت میں پڑھی ہے، کیونکہ قرآن پڑھنے میں سورتوں کی ترتیب رکھنا تلاوت کے واجبات میں سے ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 330، دار المعرفۃ، بیروت)
ترتیب کے ساتھ قرآن پڑھنا تلاوت کے واجبات سے ہےاور خلاف ترتیب تلاوت ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ رد المحتار میں ہے:
یجب الترتیب فی سور القرآن، فلو قرأ منکوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو لأن ذلک من واجبات القراءۃ لا من واجبات الصلاۃ
ترجمہ: قرآن کی سورتوں میں ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب ہے تو اگر کسی نے قرآن کو خلاف ترتیب پڑھا تو گنہگار ہوگا، لیکن اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ قرآن کو ترتیب سے پڑھنا قراءت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات میں سے نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 183، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوٰی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: نماز ہو یا تلاوت بطریق معہود ہو، دونوں میں لحاظِ ترتیب واجب ہے، اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا۔۔۔ سورتیں بے ترتیبی سے سہواً پڑھیں، تو کچھ حرج نہیں، قصداً پڑھیں تو گنہگار ہوا، نماز میں کچھ خلل نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 6، صفحہ 239، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
فتاوی تاج الشریعہ میں مفتی اختر رضا خان صاحب علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ نماز تراویح ختم قرآن میں سہواً جابجا آیتیں چھوٹ گئیں، حافظ صاحب نے ان ساری آیات کو بعد میں ایک رکعت میں یکجا کر کے تلاوت کیا تو شرعاً کیا حکم ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: (ایسا کرنا) جائز ہے جبکہ خلاف ترتیب نہ پڑھا ہو۔ (فتاوی تاج الشریعۃ، جلد 5، صفحہ 109، 110، شبیر برادرز، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1114
تاریخ اجراء: 09 رمضان المبارک 1447ھ / 27 فروری 2026ء