logo logo
AI Search

وتر کی نماز کسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عشاء کے فرض ایک مسجد میں اور وتر دوسری مسجد میں پڑھ سکتے ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کوئی شخص اپنے محلے کی مسجد میں نمازِ عشاء ادا کرنے کے بعد تراویح پڑھنے میں مشغول ہو اور اچانک کسی وجہ سے اس کو گھر والوں کے ساتھ کسی دوسرے محلے میں جانا پڑ جائے، تو کیا وہاں کی مسجد میں وتر جماعت کے ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں یا پھر جس امام صاحب کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھی ہے، واپس آکر اسی کے ساتھ پڑھنے ہوں گے ؟

جواب

ماہِ رمضان المبارک میں جس شخص نے نمازِ عشاء باجماعت ادا کی ہو، اس کے لئے افضل یہی ہے کہ وتر بھی باجماعت ادا کرے اور یہ کسی بھی صحیح العقیدہ امام صاحب کی اقتداء میں پڑھے جا سکتے ہیں، خواہ نمازِ عشاء کسی اور امام صاحب کی اقتداء میں ہی کیوں نہ ادا کی ہو اور اگر کسی وجہ سے کوئی بھی جماعت نہ ملے، تو انفرادی طور پر ادا کر لے۔

رمضان المبارك ميں وتر کے جماعت کے ساتھ افضل ہونے کے متعلق مراقی الفلاح شرحِ نور الایضاح میں ہے:

”(صلاتہ) ای الوتر (مع الجماعۃ فی رمضان افضل من ادائہ منفردا آخر اللیل فی اختیار قاضیخان قال)قاضیخان رحمہ اللہ ( ھو الصحیح) لانہ لما جازت الجماعۃ کانت افضل و لان عمر رضی اللہ عنہ کان یومھم فی الوتر۔۔۔۔فی ’’الفتح‘‘ و” البرھان“ ما یفیدان قول قاضیخان ارجح“

ترجمہ: رمضان المبارک میں نمازِ وتر، جماعت سے پڑھنا، امام قاضی خاں رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے موقف کے مطابق رات کے آخری حصے میں اکیلے نماز پڑھنےسے افضل ہے، امام قاضی خاں رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ اس لیے کہ (رمضان المبارک میں) جب جماعت جائز ہے، تو یہی افضل ہے اور اس لئے بھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ  رمضان شریف میں وتر کی جماعت کرواتے تھے۔فتح القدیر اور برہان میں اشارہ ہے کہ قاضی خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول راجح تر ہے۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 199، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: رمضان شریف میں وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 692، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

کسی دوسرے امام کے پیچھے وتر پڑھنے کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:

”لو صلاها جماعة مع غيره ثم صلى الوتر معه لا كراهة“

ترجمہ: اگر نمازِ عشاء جماعت کے ساتھ کسی اور امام کے پیچھے ادا کی، پھر اس(موجودہ) امام کے ساتھ باجماعت وتر پڑھے، تو اس میں کوئی کراہت نہیں۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد2، صفحہ443 ، مطبوعہ مکتبۃ کوئٹہ)

امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:

”من صلی الفرض بجماعۃ، یجوز لہ الدخول فی جماعۃ الوتر، سواء صلی الفرض خلف ھذا الامام او خلف غیرہ“

ترجمہ جس شخص نے عشاء کے فرض جماعت کے ساتھ ادا کئے، وہ وتر کی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے، چاہے فرض اسی امام کے پیچھے ادا کئے ہوں، یا اس کے علاوہ کسی اور کے۔ (جدالممتار علی ردالمحتار، جلد 3، صفحہ 493، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حجۃ الاسلام مولانا مفتی حامد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”اگر اس جماعت کے علاوہ کسی دوسری جماعت میں فرض پڑھے ہوں، جب بھی اس امام کے پیچھے جماعتِ وتر میں شریک ہونا درست ہے “۔ (فتاوی حامدیہ، صفحہ 260، مطبوعہ زاویہ پبلیشرز، لاھور )

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9833
تاریخ اجراء: 13 رمضان المبارک 1447ھ/03 مارچ 2026