logo logo
AI Search

Soodi Qarz Lene Wale Ko Qarz Utarne Ke Liye Qarz Dena

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سودی قرض لینے والے کو قرض اتارنے کے لئے قرض دینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک شخص نے بینک میں سونا رکھ کرایک سال کے لئے پانچ لاکھ روپے قرض لیا اور بینک نے شرط یہ رکھی کہ ایک سال کے اندر چھ لاکھ روپے واپس کرنے ہیں، اگر ایک سال تک چھ لاکھ نہ دئیے، تو سونا ضبط کر لیا جائے گا، اب سال پورا ہونے والا ہے، لیکن اس شخص کے پاس رقم کا انتظام نہیں ہورہا ہے، اب وہ اپنے کسی دوست سے ادھار لے کر بینک کی پیمنٹ ادا کررہا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ جو دوست اس کو ادھار رقم دے رہا ہے کیا وہ بھی گناہ گار ہوگا؟

جواب

سود پر قرض لینا بلا حاجت شرعی حرام ہے چاہے زیور گروی رکھواکر ہی لیا جائے، ایسے شخص پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل سے توبہ بھی کرے اور آئندہ کیلئے بھی اس سے بچے۔ البتہ دوست اگر گناہ پر تعاون کی نیت سے مدد نہیں کررہا تو محض قرض دینے کے سبب گنہگار نہ ہوگا جبکہ دوست بھی بلا سود قرض دے۔

سود کی مذمت کے متعلق قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا

ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود۔ (القرآن، پارہ 03، سورۃ البقرۃ، آیت: 275)

حدیث پاک میں ہے:

لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ

یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سود کھانے والے سود کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (الصحیح لمسلم، جلد 2، صفحه 27، باب الربا، مطبوعہ کراچی)

قرض پر کسی قسم کا نفع شرط ٹھہرا لینا سود اور سخت حرام و گناہ ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے:

کل قرض جر منفعۃ فھو ربا

ہر قرض جو نفع لائے وہ سود ہے۔ (کنز العمال، جلد 6، صفحه 99، مطبوعہ، لاھور)

سیدی اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہو اور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو، سود ہے۔ مثلاً سو(100) روپے قرض دئیے اور یہ ٹھہرالیا کہ پیسہ اوپر سو (100) لے گا تو یہ پیسہ عوض شرعی سے خالی ہے لہٰذا سود، حرام ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 17، صفحہ 326، رضا فاونڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-1882

تاریخ اجراء: 29 صفرالمظفر 1446ھ / 04 ستمبر 2024ء