بنی آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہونے کی وضاحت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بنی آدم کے تمام دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، اس حدیث کی وضاحت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ براے مہربانی مندرجہ ذیل حدیث کی وضاحت فرما دیں. "بنی آدم کے تمام دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایسے ہیں، جیسے وہ سب ایک ہی دل ہوں۔ وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹتا رہتا ہے"۔ پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: (اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیرے رکھ)"، لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو جسم سے پاک ہے؟
جواب
جی ہاں! اللہ پاک جسم و جسمانیت اور اعضاسے پاک ہے، رہی یہ بات کہ پھر مذکورہ روایت میں لفظ ” اصبع (انگلی)“یا دیگر احادیث و آیات میں اس طرح کے وارد الفاظ سے کیا مراد ہے؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ:
اہلسنت کے نزدیک اس طرح کے الفاظ متشابہات کے قبیل سے ہیں اور متشابہات کی مراد کے بارے میں اہلسنت کے دو مسالک ہیں:
(1) متقدمین (پہلی تین صدیوں تک کے علما) کا مسلک یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ کا ظاہری معنی یہاں مراد نہیں، اور حقیقت میں اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مراد ہے، ہمارا اس پر ایمان ہے، نہ ہم اس کی حقیقت کو جانتے ہیں، اور نہ اس میں بحث کرتے ہیں۔
(2) اور متاخرین (پہلی تین صدیوں سے بعد کے علما) نے عوام کے دین کی حفاظت کے لیے (کہ معنی معلوم نہ ہونے کہ وجہ سے اللہ پاک کی شان کے خلاف کسی معنی کا اعتقاد نہ کر لیں) ان کو محال معنی سے پھیر کر کسی قریب، صحیح، شان باری تعالی کے لائق معنی بیان فرمائے ۔
تو ان کے اعتبار سے سوال میں موجود حدیث پاک میں لفظ ”اصبع“ سے مراد ”قدرت “ہے، نہ کہ معاذ اللہ حقیقی انگلی۔
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”(وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) كقوله إن اللہ تعالى جسم كالأجسام“ ترجمہ: اور اگر کسی شخص نے ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کیا تو اس کے سبب اس کی تکفیر کی جائے گی، مثلاً یوں کہنا کہ اللہ تعالیٰ اجسام کی مانند جسم ہے۔ (الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحه 358، مطبوعہ: کوئٹہ)
اس کے تحت علامہ محمد عابد بن احمد السندی المدنی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1257ھ/1841ء) لکھتے ہیں: واللفظ للسندي ”أو قال ان لله يد أو رجل كالعباد فهو كافر“ ترجمہ: یا یہ کہنا کہ بندوں کی طرح اللہ کا ہاتھ یا اس کی ٹانگ ہے تو ایسا کہنے والا کافر ہے۔ (طوالع الأنوار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، جلد 2، حصہ 1، صفحه 28، مخطوطه)
شیخ الإسلام والمسلمین امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اللہ عزوجل مکان و جہت و جلوس وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات و عیوب و نقائص سے پاک ہے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحه 139، رضا فاؤندیشن، لاہور)
شارح بخاری فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”اللہ عزوجل جسم سے پاک ہے، اس لیے کہ ہر جسم مرکب ہوتا ہے اور ہر مرکب حادث، کیونکہ ہر مرکب پر ان اجزا کا تقدم ضروری ہے جن سے وہ مرکب ہے۔ اور اللہ عزوجل کو حادث ماننا یا ایسا قول کرنا جس سے اس کا حادث ہونا لازم آئے، کفر ہے۔ اس لیے کہ حادث کا مطلب یہ ہوتا ہےکہ وہ پہلے موجود نہیں تھا معدوم تھا، پھر وہ موجود ہوا، حالاں کہ اللہ عزوجل قدیم ازلی ہے۔ نہ وہ کبھی معدوم رہا اور نہ کبھی معدوم ہوگا۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحه 132-133، برکات المدینہ، کراچی)
متشابہات کے متعلق امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "اہلسنت کے دو مسلک آیاتِ متشابہات میں ہیں: سلف صالح کا مسلک تفویض کا، ہم نہ ان کے معنی جانیں نہ ان سے بحث کریں جو کچھ ان کے ظاہر سے سمجھ میں آتا ہے، وہ قطعاً مراد نہیں اور جو کچھ ان کے رب عزوجل کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لائے۔ امنّا بہ کل من عند ربنا ہم سب اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ دوسرا مسلک متاخرین کا کہ حفظ دین عوام کے لیے معنی محال سے پھیر کر کسی قریب معنی صحیح کی طرف لے جائیں ۔" (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 117، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
"اصبع" اور اس جیسے متشابہات کے بارے میں فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے ”قال ابن دقيق العيد في العقيدة: تقول في الصفات المشكلة: إنها حق وصدق على المعنى الذي أراده اللہ ومن تأولها نظرنا فإن كان تأويله قريبا على مقتضى لسان العرب لم ننكر عليه وإن كان بعيدا توقفنا عنه ورجعنا إلى التصديق مع التنزيه وما كان منها معناه ظاهرا مفهوما من تخاطب العرب حملناه عليه لقوله: ﴿على ما فرطت في جنب اللّٰہ﴾ فإن المراد به في استعمالهم الشائع حق اللہ فلا يتوقف في حمله عليه وكذا قوله ان قلب بن آدم بين إصبعين من أصابع الرحمن فإن المراد به إرادة قلب بن آدم مصرفة بقدرة الله وما يوقعه فيه“ ترجمہ: ابن دقیق العید نے کہا: عقیدہ یہ ہے کہ صفاتِ مشکلہ کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ حق اور سچ ہیں، اس معنی پر جو اللہ تعالیٰ نے مراد لیا ہے۔ اور جس شخص نے ان میں سے کسی صفت کی تاویل کی ہو، تو ہم اس کی تاویل دیکھیں گے؛ اگر اس کی تاویل عربی زبان کے تقاضے کے مطابق قریب ہو تو ہم اس پر نکیر نہیں کریں گے، اور اگر تاویل بعید ہو تو ہم اس سے توقف کریں گے اور تنزیہ کے ساتھ تصدیق ہی کی طرف رجوع کریں گے۔ اور جن صفات کا معنی عربوں کے باہمی گفتگو کے عرف سے واضح اور مفہوم ہو، ہم انہیں اسی معنی پر محمول کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ يٰحَسْرَتٰى عَلَىٰ مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللهِ ﴾ ، تو عربوں کے عام استعمال میں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا حق ہے، لہٰذا اسے اسی معنی پر محمول کرنے میں کوئی توقف نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "بنی آدم کے تمام دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں" تو اس سے مراد یہ ہے کہ ابنِ آدم کے دل کی کیفیت اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت ہے، وہ اسے جس طرح چاہتا ہے پھیرتا ہے اور اس میں جو چاہتا ہے واقع فرماتا ہے۔ (فتح الباري لابن حجر، جلد 13، صفحہ 383، مطبوعه: بيروت)
إرشاد الساري شرح صحيح بخاري میں ہے ”فهو من المتشابه كغيره كالوجه واليدين والقدم والرجل والجنب في قوله تعالى: ﴿أن تقول نفس يحسرتى على ما فرطت في جنب الله﴾ .واختلف أئمتنا في ذلك هل نؤوّل المشكل أم نفوّض معناه المراد إليه تعالى مع اتفاقهم على أن جعلنا بتفصيله لا يقدح في اعتقادنا المراد منه، والتفويض مذهب السلف وهو أسلم والتأويل مذهب الخلف وهو أعلم أي أحوج إلى مزيد علم فنؤوّل الأصبع هنا بالقدرة إذ إرادة الجارحة مستحيلة“
ترجمہ: پس یہ بھی متشابہات میں سے ہے، جیسے چہرہ، دونوں ہاتھ، قدم، ٹانگ اور جنب، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے: {أن تقول نفس يٰحسرتى على ما فرطت في جنب الله} [الزمر: 56]۔ اور ہمارے ائمہ کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ہم مشکل (صفات) کی تاویل کریں یا اس کے مرادی معنی کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ البتہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کی تفصیل بیان کرنے سے ہمارے اعتقاد میں اس کی مراد کے اعتبار سے کوئی خلل نہیں آتا۔ اور تفویض، سلف کا مذہب ہے اور یہ زیادہ محفوظ ہے، جبکہ تاویل، خلف کا مذہب ہے اور یہ زیادہ علم والا طریقہ ہے، یعنی اس میں مزید علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا یہاں اُنگلی سے مراد قدرت لیتے ہیں، کیونکہ جسمانی عضو مراد لینا محال ہے۔ (إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، جلد 11، صفحہ 27، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5347
تاریخ اجراء: 17 ربیع الاول 1448ھ/31 اگست 2026ء