logo logo
AI Search

اسلام غریبی سے شروع ہوا اور وہیں لوٹے گا - مفہوم حدیث

بسم اللہ الرحمن الرحيم

دینِ اسلام سے متعلق ایک حدیث کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

حدیث پاک میں یہ مضمون موجود ہے کہ دین غریبی سے شروع ہوا اور جیسا شروع ہوا تھا ویسا ہی پھر ہوجائے گا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”بدأ الإسلام غريبا و سيعود كما بدأ، فطوبى للغرباء“ یعنی اسلام غریبی سے شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا تھا ویسا ہی پھر ہوجائے گا۔ غربا کو خوشخبری ہو۔ (مشکوۃ المصابیح مع مرقاۃ المفاتیح، جلد 1، صفحہ 361، حدیث 159، مطبوعہ بیروت)

اس کے تحت مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”غربت کے لفظی معنی ہیں تنہائی اور بیکسی، اسی لیے مسافر اور تنگ دست کو غریب کہا جاتا ہے کہ مسافر سفر میں اکیلا ہوتا ہے اور تنگ دست بیکس، یعنی اسلام کو پہلے تھوڑے لوگوں نے قبول کیا اور آخر میں بھی تھوڑے ہی لوگوں میں رہ جائے گا، یہ دونوں جماعتیں بڑی مبارک ہیں۔ الحمد للّٰہ! تھوڑے مسلمان بہتوں پر غالب آتے رہے اور آتے رہیں گے، تھوڑا سونا بہت سے لوہے پر اور تھوڑا مشک بہت سی مٹی پر غالب ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غریب مسکین لوگ اسلام پر قائم رہتے ہیں اکثر مالدار بھٹک جاتے ہیں۔“ (مرأۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 150، مطبوعہ لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2581
تاریخ اجراء: 02 جمادی الاولٰی 1447ھ / 25 اکتوبر 2025ء