اللہ تعالی اپنا قدم دوزخ میں رکھے گا؟ حدیث پاک کی وضاحت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالی کا اپنا قدم جہنم میں رکھنے کے متعلق حدیث کی وضاحت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ براہ مہربانی مندرجہ ذیل حدیث کی وضاحت فرما دیں: شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’دوزخ مسلسل یہی کہتی رہے گی: کیا اور زیادہ ہے؟ یہاں تک کہ رب العزت تبارک وتعالیٰ اس میں اپنا قدم ٹکائے گا تو وہ کہے گی، بس بس تیری عزت کی قسم! (میرا مطالبہ ختم ہوگیا۔) اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے سے سمٹ جائے گا۔‘‘ [صحیح مسلم 2848]، لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو جسم سے پاک ہے؟
جواب
جی ہاں! اللہ پاک جسم و جسمانیت سے پاک ہے، اور رہی یہ بات کہ پھر مذکورہ روایت میں لفظ ”قدم“ یا دیگر احادیث و آیات میں وارد اس طرح کےالفاظ سے کیا مراد ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ :
اہلسنت کے نزدیک یہ الفاظ متشابہات کے قبیل سے ہیں، اور متشابہات کی مراد کے بارے میں اہلسنت کے دو مسلک ہیں :
(1) متقدمین (پہلی تین صدیوں تک کے علماے کرام) کا مسلک یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ کا ظاہری معنی یہاں مراد نہیں اور حقیقت میں اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مراد ہے، ہمارا اس پر ایمان ہے، نہ ہم اس کی حقیقت کو جانتے ہیں، اور نہ ہی اس میں بحث کرتے ہیں۔
(2) جبکہ متاخرین (پہلی تین صدیوں کے بعد کے زمانے کے علماے کرام) نے عوام کے دین کی حفاظت کے لیے (کہ معنی معلوم نہ ہونے کہ وجہ سے اللہ پاک کی شان کے خلاف کسی معنی کا اعتقاد نہ کر لیں) ان کو محال معنی سے پھیر کر کسی قریب اور صحیح، شان باری تعالی کے لائق معنی بیان فرمائے۔
سوال میں مذکور لفظ"قدم"کی تاویلات:
لہذا سوال میں موجود حدیث پاک میں لفظ ”قدم“ سے درج ذیل میں سے کوئی مراد ہو سکتا ہے:
(الف) قدم بمعنی متقدم ہوسکتا ہے یعنی اہل عذاب میں سے جو آگے بھیجے گئے۔
(ج) بعض مخلوق کا قدم مراد ہو سکتا ہے۔
(د) یا پھر قدم نامی جماعت مراد ہو سکتی ہے۔
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”(وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) كقوله إن اللہ تعالى جسم كالأجسام“ ترجمہ: اور اگر کسی شخص نے ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کیا تو اس کے سبب اس کی تکفیر کی جائے گی، مثلاً یوں کہنا کہ اللہ تعالیٰ اجسام کی مانند جسم ہے۔ (الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحه 358، مطبوعہ:کوئٹہ)
اس کے تحت علامہ محمد عابد بن احمد السندی المدنی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1257ھ/1841ء) لکھتے ہیں: ”قال ان لله يد أو رجل كالعباد فهو كافر“ ترجمہ: یہ کہا کہ بندوں کی طرح اللہ کا ہاتھ یا اس کی ٹانگ ہے تو وہ کافر ہے۔ ( طوالع الأنوار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، جلد 2، صفحه 28، مخطوطه)
شیخ الإسلام والمسلمین، امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اللہ عزوجل مکان و جہت و جلوس وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات و عیوب و نقائص سے پاک ہے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحه 139، رضا فاؤندیشن، لاہور)
شارح بخاری فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”اللہ عزوجل جسم سے پاک ہے، اس لیے کہ ہر جسم مرکب ہوتا ہے اور ہر مرکب حادث، کیونکہ ہر مرکب پر ان اجزا کا تقدم ضروری ہے جن سے وہ مرکب ہے۔ اور اللہ عزوجل کو حادث ماننا یا ایسا قول کرنا جس سے اس کا حادث ہونا لازم آئے، کفر ہے۔ اس لیے کہ حادث کا مطلب یہ ہوتا ہےکہ وہ پہلے موجود نہیں تھا معدوم تھا، پھر وہ موجود ہوا، حالاں کہ اللہ عزوجل قدیم ازلی ہے۔ نہ وہ کبھی معدوم رہا اور نہ کبھی معدوم ہوگا۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحه 132-133، برکات المدینہ، کراچی)
متشابہات کے متعلق اہلسنت کا موقف بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "اہلسنت کے دو مسلک آیاتِ متشابہات میں ہیں: سلف صالح کا مسلک تفویض کا، ہم نہ ان کے معنی جانیں نہ ان سے بحث کریں جو کچھ ان کے ظاہر سے سمجھ میں آتا ہے، وہ قطعاً مراد نہیں اور جو کچھ ان کے رب عزوجل کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لائے۔ امنّا بہ کل من عند ربنا ہم سب اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ دوسرا مسلک متاخرین کا کہ حفظ دین عوام کے لیے معنی محال سے پھیر کر کسی قریب معنی صحیح کی طرف لے جائیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 117، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سوال میں مذکور حدیث پا ک کے تحت شرح صحیح مسلم میں ہے ”هذا الحديث من مشاهير أحاديث الصفات وقد سبق مرات بيان اختلاف العلماء فيها على مذهبين أحدهما وهو قول جمهور السلف وطائفة من المتكلمين أنه لايتكلم في تأويلها بل نؤمن أنها حق على ما أراد اللہ ولها معنى يليق بها وظاهرها غير مراد والثاني وهو قول جمهور المتكلمين أنها تتأول بحسب ما يليق بها فعلى هذا اختلفوا في تأويل هذا الحديث فقيل المراد بالقدم هنا المتقدم وهو شائع في اللغة ومعناه حتى يضع اللہ تعالى فيها من قدمه لها من أهل العذاب قال المازري والقاضي هذا تأويل النضر بن شميل ونحوه عن بن الأعرابي الثاني أن المراد قدم بعض المخلوقين فيعود الضمير في قدمه إلى ذلك المخلوق المعلوم الثالث أنه يحتمل أن في المخلوقات ما يسمى بهذه التسمية“
ترجمہ: یہ حدیث صفاتِ الٰہیہ سے متعلق مشہور احادیث میں سے ہے۔ اس سے پہلے کئی مرتبہ علماء کے ان احادیث کے بارے میں دو مذاہب کا اختلاف بیان ہو چکا ہے۔ پہلا، جمہور سلف اور متکلمین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ ان صفات کی تاویل کے بارے میں گفتگو نہ کی جائے، بلکہ ہم ایمان رکھیں کہ یہ اس معنی کے مطابق حق ہے، جو اللہ تعالیٰ نے مراد لیا ہے، اور ان کا ایسا معنی ہے، جو اس کے شایانِ شان ہے، جبکہ ان کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے۔ دوسرا، جمہور متکلمین کا قول ہے کہ ان صفات کی ایسی تاویل کی جائے، جو اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ہو۔ چنانچہ اس حدیث کی تاویل میں بھی ان کا اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں قدم سے مراد متقدم یعنی آگے بڑھنے والا ہے، اور یہ عربی زبان میں عام استعمال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم میں ان لوگوں کو داخل فرمائے گا، جنہیں اس کے لیے آگے بھیج دیا گیا ہے، یعنی اہلِ عذاب میں سے جنہیں جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔امام مازری اور قاضی نے کہا: یہ نضر بن شمیل کی تاویل ہے، اور اسی کے قریب ابن اعرابی سے بھی منقول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں قدم سے مراد بعض مخلوقات کا قدم ہے، پس قدمَه میں ضمیر اسی معلوم مخلوق کی طرف لوٹے گی۔ تیسرا یہ ہے کہ ممکن ہے مخلوقات میں کوئی ایسی چیز ہو جسے اس نام سے موسوم کیا جاتا ہو ۔(شرح النووي على مسلم، جلد 17، صفحہ 183، مطبوعہ:بيروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5339
تاریخ اجراء: 13 ربیع الاول 1448ھ/27 اگست 2026ء