مجیب: ابوالفیضان عرفان احمد مدنی
فتوی نمبر: WAT-1600
تاریخ اجراء: 11شوال المکرم1444 ھ/02مئی2023 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
مسجدِ بیت سے ایک قدم بھی باہر نکالیں گے، غلطی یا بے خیالی سے تو کیا اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
صرف ایک پاؤں مسجد سے نکالا، خواہ قصداً یا بے خیالی میں اعتکاف نہیں ٹوٹے گا، مسجدسے نکلنا اس وقت کہاجائے گا جب کہ پاوں مسجد سے اس طرح باہر ہو جائیں کہ اسے عرفا مسجد سے نکلنا کہا جا سکے۔
چنانچہ سیّدی امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دام ظلہ اپنی مشہورِ زمانہ کتاب فیضانِ رمضان میں لکھتے ہیں:
مسجد سے نکلنا اُس و قت کہا جائے گا جب کہ پاؤں مسجد سے اس طرح باہر ہو جائیں کہ اسے عرفاً مسجد سے نکلنا کہا جا سکے۔ ( فیضانِ رمضان، اعتکاف توڑنے والی چیزوں کابیان، ص267، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
مزید فیضان سنت میں ہے: صِرف ایک پاؤں مسجِد سے باہَر نکالا تو کوئی حرج نہیں۔ ( فیضانِ سنت، فیضان اعتکاف، ص1260، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم