مجیب:ابو الحسن رضا محمدعطاری مدنی
مصدق:مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:Nor-13303
تاریخ اجراء:05رمضان المبارک1445 ھ/16مارچ2024 ء
دارالافتاء اہلسنت(دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بالغہ لڑکی کا نکاح ہوگیا ہے، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس کا فطرہ ادا کرنا شرعاً کس پر لازم ہے شوہر پر یا والد پر؟ جبکہ لڑکی ابھی والد کی زیرِ کفالت ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب سے قبل یہ حکم ذہن نشین کر لیجئے کہ مسلمان مرد صاحبِ نصاب پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ نابالغ بچے خود صاحبِ نصاب نہ ہوں، ورنہ ان کے صدقہ فطر کی ادائیگی ان کے مال سے کی جائے گی۔ اپنی بالغ اولاد (لڑکا ہو یا لڑکی) کےصدقہ فطر کی ادائیگی والد پر لازم نہیں، اگرچہ وہ اپنی زیرِ کفالت ہوں، یوں ہی بیوی کے فطرے کی ادائیگی شوہر کے ذمے واجب نہیں۔
بیان کردہ تفصیل سےسوال کا جواب بھی واضح ہوگیا کہ سوال میں ذکر کردہ لڑکی کا فطرہ ادا کرنا نہ اس کے شوہر پر واجب ہے، نہ اس کے والد پر، ہاں اگر یہ لڑکی خود صاحبِ نصاب ہو تو اپنا صدقہ فطر خود ادا کرے گی۔
چونکہ تاحال بیٹی باپ کی کفالت میں ہے اور رخصتی نہیں ہوئی ہے، اس بنا پر باپ اگر بغیر اجازت کے بیٹی کا فطرہ نکالے تو ادا ہو جائے گا، لیکن پوچھی گئی صورت میں شوہر کو بیوی کی اجازت لینی ہوگی۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ولا يؤدی عن زوجته ولا عن اولاده الكبار وان كانوا فی عياله ولو أدى عنهم او عن زوجته بغير امرهم أجزأهم استحساناً
یعنی: شوہرکے ذمہ اپنی زوجہ کی طرف سےاوروالد کے ذمہ اپنی بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں، اگرچہ بالغ اولاد اپنے باپ کی زیرِ کفالت ہو۔ اگرباپ بالغ اولاد (لڑکے یا لڑکی) کی طرف سے یا شوہر بیوی کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر ہی صدقہ فطر ادا کردیتا ہے، تو استحساناً ان کا صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔ (الفتاوی الھندیہ، ج 01، ص 193، مطبوعہ پشاور)
اگر شوہر بیوی کی طرف سے یا والد اپنی زیرِ کفالت بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر کی ادائیگی کرے تو کافی ہوگا، اگرچہ ان سے اجازت نہ لی ہو کہ یہاں دلالۃً اجازت ثابت ہے، جیسا کہ محقّق علامہ محمد علاؤ الدین حصکفی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:
ولو ادی عنھما بلا اذنٍ اجزا استحساناً للاذن عادۃً ای لو فی عیالہ والا فلا
یعنی اگر باپ بالغ اولاد (لڑکے یا لڑکی) کی طرف سے یا شوہر بیوی کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر ہی صدقہ فطر ادا کر دیتا ہے تو استحساناً کفایت کرے گا، کیونکہ یہاں عادۃً اجازت پائی جاتی ہے۔ بالغ اولاد کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر صدقہ فطر کی ادائیگی اس وقت ہو سکے گی جبکہ وہ والد یا شوہر کی زیرِ کفالت ہوں ورنہ نہیں۔ (الدرّ المختارمعہ ردّ المحتار، ج3، ص370، مطبوعہ کوئٹہ)
شیخ الاسلام والمسلمین امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (متوفی:1340ھ) سےاسی طرح کا ایک سوال ہوا کہ: زید کی بیوی ہندہ جو مالکِ نصاب نہیں ہے مع اپنے ایک خورد سال بچّے کے، اپنے باپ بکر کے یہاں یعنی میکے میں عیدالفطر کو قیام رکھتی ہے، تو اُس کا اور اس کے لڑکے کا صدقہ کس کو دینا چاہئے، آیا زید کو جو ہندہ کا شوہر ہے یا بکر کو جو ہندہ کا باپ ہے؟
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: خورد سال بچّے کا صدقہ فطر اُس کے باپ پر ہے اورعورت کا نہ باپ پر نہ شوہر پر، صاحبِ نصاب ہوتی تو اس کا صدقہ اسی پر ہوتا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج10، ص295-296، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدرالشریعہ حضرت مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی:1367ھ)ارشاد فرماتے ہیں: اپنی عورت اور اولاد عاقل بالغ کا فطرہ اُس کے ذمہ نہیں، اگرچہ اپاہج ہو، اگرچہ اس کے نفقات اس کے ذمہ ہوں۔ عورت یا بالغ اولاد کا فطرہ ان کے بغیر اِذن ادا کر دیا، تو ادا ہوگیا، بشرطیکہ اولاد اس کے عیال میں ہو یعنی اس کا نفقہ وغیرہ اُس کے ذمہ ہو۔ (بھار شریعت، ج 1، حصہ5، ص 938، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مرد پر کس کس کی طرف سے صدقہ فطرکی ادائیگی واجب ہے؟ اس کے متعلق ایک مقام پرآپ رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: مردمالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے، جبکہ بچہ خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ اس کا صدقہ اسی کے مال سے ادا کیا جائے اور مجنون اولاد اگرچہ بالغ ہو جبکہ غنی نہ ہو، تو اُس کا صدقہ اُس کے باپ پر واجب ہے اور غنی ہو تو خود اس کے مال سے ادا کیا جائے، جنون خواہ اصلی ہو یعنی اسی حالت میں بالغ ہوا یا بعد کو عارض ہوا، دونوں کاایک حکم ہے۔ (ایضاً،ص936)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم