مجیب:مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-2686
تاریخ اجراء: 18شوال المکرم1445 ھ/27اپریل2024ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
بیوی نے شوہر کا فطرہ بغیر اجازت لئے اپنے پیسوں سے دے دیا تو وہ ادا ہوگیا یا دوبارہ پوچھ کر دینا ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
بیوی نے اگر شوہر کا فطرہ، اس کی صراحۃ یادلالۃ اجازت کے بغیر ادا کر دیا تو شوہر کا فطرہ ادا نہیں ہوا، اب یا تو شوہر خود ادا کرے اور اگر بیوی ادا کرے تو شوہر کی اجازت لے کر دوبارہ ادا کرے۔
رد المحتار میں ہے: إن أدت عنه بدون إذنه لم يجزه
ترجمہ: اگر عورت نے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا صدقہ فطر ادا کیا تو شوہر کو کفایت نہیں کرے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار،باب صدقۃ الفطر،ج 2،ص 368،دار الفکر،بیروت)
بہارشریعت میں ہے : اور عورت نے اگر شوہر کا فطرہ بغیر حکم ادا کر دیا ادا نہ ہوا۔ (بہار شریعت،ج01،حصہ 05، ص938،مکتبۃ المدینہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: دوسرے کی طرف سے کوئی فرض وواجبِ مالی ادا کرنے کے لیے اُس کی اجازت کی حاجت ہے،اگر بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر یا اُس کی زکوٰۃ، ماں باپ نے اپنے مال سے ادا کردی یا ماں باپ کی طرف سے اولاد نے اور اصل جس پر حکم ہے اس کی اجازت نہ ہُوئی تو ادا نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ،جلد10، صفحہ139، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم