logo logo
AI Search

دانتوں میں سوراخ سے روزے پر اثر پڑے گا؟

دانتوں میں سوراخ (whole) ہو تو روزے  کا حکم؟

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-1449
تاریخ اجراء: 19رجب المرجب1445 ھ/31جنوری2024ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دانتوں میں سوراخ (whole) ہو تو اس سے روزے پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

دانتوں میں سوراخ (whole) ہے تو اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر اس whole میں کھانے کی کوئی چیز پھنس گئی اور وہ چنے کے برابر یا زیادہ ہے اور اسے کھا گیا یا کم ہی تھی مگر منہ سے نکال کر پھر کھالی تو روزہ ٹوٹ جائے گا، ہاں! نکال کر تھوک دیا تو روزے پر اثر نہ پڑے گا۔

بہارِ شریعت میں ہے:  شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو مونھ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں، مونھ میں رکھی اور تھوک نگل گیا روزہ جاتا رہا۔ یوہیں دانتوں کے درمیان کوئی چیز چنے کے برابر یا زیادہ تھی اُسے کھا گیا یا کم ہی تھی، مگر مونھ سے نکال کر پھر کھالی یا دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اُترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر تھا یا کم تھا، مگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی محسوس نہ ہوا، تو نہیں۔ (بہارِ شریعت، حصہ5، صفحہ986، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم