logo logo
AI Search

جس کو فطرہ دینا ہے کیا اس کو بتانا ضروری ہے؟

جس کو فطرہ دیا جائے اسے بتانا ضروری ہے یا نہیں؟

مجیب:مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر:Web-1555

تاریخ اجراء:10رمضان المبارک1445 ھ/21مارچ2024 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس کو فطرہ دینا ہے، کیا اس کو بتانا ضروری ہے کہ یہ فطرے کی رقم ہے؟ اگر کوئی شخص اس رقم کا راشن خرید کر دے دے اور یہ نہ بتائے کہ یہ راشن فطرے کی رقم کا ہےتو کیا فطرانہ ادا ہو جائے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جس طرح زکوۃ اداکرتے وقت شرعی فقیرمستحق زکوۃ کو یہ بتاناضروری نہیں کہ یہ رقم یا مال زکوۃ کی مد میں دے رہا ہوں یونہی فطرہ ادا کرتے وقت بھی بتانا ضروری نہیں، دل میں نیت ہونا کافی ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں جس شرعی فقیر کو فطرہ ادا کیا جا رہا ہے، فطرہ ادا کرتے ہوئے اس کو بتانا ضروری نہیں، بلکہ دل میں فطرہ کی نیت کرتے ہوئے اس کو ادائیگی کرنے سے فطرہ ادا ہوجائے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم