logo logo
AI Search

منہ دھونے یا نفلی نماز کیلئے مسجد بیت سے جانا کیسا؟

مسجدبیت سے باہرجاکرہاتھ منہ دھونایانفلی کام کے لیے وضوکرنا

مجیب:محمد بلال عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1051
تاریخ اجراء:10صفرالمظفر1444 ھ/07 ستمبر2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ: مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ:

(الف) عورت اعتکاف میں ہو تو کھانے کے بعد منہ صاف کرنے کے لیے باتھ روم میں جا سکتی ہے؟

(ب) اور نفلی نماز یا قرآن پاک کی تلاوت کے لیے وضوکرنے کی حاجت ہو تو مسجد بیت سے باہر جا کر وضو کر سکتی ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(الف) عورت گھر میں متعیّن کردہ جگہ میں اعتکاف کرتی ہے، جو ”مسجدِ بیت“ کہلاتی ہے اور مسجدِ بیت میں فنا کا کوئی تصور نہیں ہوتا اس لئےعورت دوران اعتکاف مسجدِ بیت سے باہر بلا ضرورت شرعیہ نہیں نکل سکتی، صورتِ مسئولہ میں عورت اگرکھانے کے بعد منہ صاف کرنے کیلئے نکلے گی، تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اس کو چاہیے کہ ہاتھ دھونے یا صاف کرنے کا انتظام مسجد بیت میں ہی کرے۔

(ب) عورت دوران اعتکاف نفلی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے لیے مسجد بیت سے باہر وضو کرنے جا سکتی ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم