مجیب:مفتی علی اصغر صاحب مدظلہ العالی
فتوی نمبر: Nor-11507
تاریخ اجراء:08رمضان المبارک1442 ھ/21اپریل 2021 ء
دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت(دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے میرے ایک دوست نے ایک پوسٹ بھیجی جس میں بخاری شریف کے حوالے سے لکھا تھا کہ جس شخص کا انتقال ہوا اور اس کے ذمے روزے باقی ہوں، تو میت کا ولی میت کی طرف سے روزے رکھے، برائے کرم یہ رہنمائی فرمادیں کہ کیا واقعی میت کی طرف سے روزے رکھے جاسکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جس شخص کے ذمے روزوں کی قضا باقی ہو اور انہیں ادا کرنے سے پہلے وہ مر جائے، تو اس کی طرف سے کوئی اور روزہ ادا نہیں کر سکتا، کیونکہ روزہ بدنی عبادت ہے، اس میں نیابت نہیں ہوسکتی، جبکہ بخاری شریف کی جس حدیث میں میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا ذکر ہے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے شارحینِ حدیث نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس حدیث میں روزہ رکھنے سے مراد فدیہ دینا ہے۔
بخاری شریف کی روایت ہے:
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :من مات وعلیہ صوم صام عنہ ولیہ
یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مر گیا اور اس پر روزے تھے، تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے ادا کرے۔ (صحیح بخاری ،جلد1،صفحہ262،مطبوعہ کراچی)
اس روایت کے تحت عمدۃ القاری میں ہے:
حجۃ اصحابنا الحنفیۃ ومن تبعھم فی ھذا الباب فی ان مات وعلیہ صیام لایصوم عنہ احد ولکنہ ان اوصی بہ اطعم ولیہ کل یوم مسکین نصف صاع من براوصاعامن تمراوشعیر
یعنی ہمارے حنفی اصحاب اور ان کے متبعین کی اس باب میں یہ دلیل ہے کہ جو شخص مرجائے اور اس کے ذمے روزے ہوں، تو کوئی اور اس کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا، لیکن اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو، تو میت کا ولی ہر دن کے بدلے مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا جَودے گا۔ (عمدۃ القاری ،جلد11،صفحہ59،مطبوعہ بیروت)
بخاری شریف کی روایت کی وضاحت کرتے ہوئے لمعات التنقیح شرح مشکٰوۃ المصابیح میں فرمایا:
ذھب الجمھور الی انہ لایصام عنہ وبہ قال ابوحنیفۃ ومالک والشافعی فی اصح قولیہ، واولوا الحدیث بان المراد اطعام الولی عنہ وتکفیرہ عنہ
یعنی جمہور اس طرف گئے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے نہیں رکھے جائیں گے، یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی کے دو قولوں میں سے اصح قول ہے اور ان علماء نے اوپر ذکر کردہ حدیث کی تاویل یہ بیان فرمائی کہ یہاں ولی کے روزہ رکھنے سے مراد ولی کا میت کی طرف سے کھانا کھلانا اور کفارہ دینا ہے۔ (لمعات التنقیح شرح مشکٰوۃ المصابیح،جلد4،صفحہ465،مطبوعہ لاھور)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
صام ای :کفرعنہ ولیہ قال الطیبی تاویل الحدیث انہ یتدارک ذلک ولیہ بالاطعام فکانہ صام
یعنی ایسے شخص کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے یعنی کفارہ دے، علامہ طیبی نے کہا حدیث کی تاویل یہ ہے کہ اس کاتدارک میت کا ولی کھانا کھلا کر کرے گا، گویا کہ اس نے میت کی طرف سے روزہ رکھا۔ (مرقاۃ المفاتیح ،جلد4،صفحہ282،مطبوعہ ملتان)
مرآۃ المناجیح میں ہے: جس شخص پر رمضان یا نذر کا روزہ قضا ہوگیا پھر اسے قضا کرنے کا موقع ملا، مگر قضا نہ کیا کہ مرگیا، تو اس کا ولی وارث اس کی طرف سے روزہ ادا کردے۔ امام احمد کے ہاں اس طرح کہ روزے رکھ دے اور باقی تمام اماموں کے ہاں اس طرح کہ روزوں کا فدیہ دے دے چند وجہوں سے:
ایک یہ کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَعَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍ﴾ جو روزہ کی طاقت نہ رکھیں ان پر فدیہ ہے اور میت بھی اب طاقت نہیں رکھتا۔
دوسرے یہ کہ خود حدیث شریف میں صراحۃً وارد ہوا کہ: ’’الا لایصومن احدٌ عن احد و لا یصلین احد عن احد‘‘ کوئی کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے، جیساکہ آگے آرہا ہے۔
تیسرے یہ کہ خود صحابہ کرام کا فتوی یہ رہا کہ میت کی طرف سے روزوں کا فدیہ دیا جاوے روزہ رکھا نہ جائے، دیکھو مرقات۔
چوتھے یہ کہ قیاس شرعی بھی یہی چاہتا ہے کیونکہ نماز بمقابلہ روزہ زیادہ اہم اور ضروری ہے، مگر میت کی طرف سے کوئی نمازیں نہیں پڑھتا، تو روزے کیسے رکھ سکتا ہے، محض بدنی عبادت خود ہی کرنی پڑتی ہے دوسرے سے نہیں کرائی جاتی۔(مرآۃ المناجیح ،جلد3،صفحہ177،ضیاء القرآن پبلی کیشنز،لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم