logo logo
AI Search

نابالغ بچوں کے روزہ توڑنے پر اسکا گناہ والدین کو ہوگا؟

نابالغ اگرروزہ رکھ کرتوڑدے توکیاحکم ہے؟

مجیب: ابوصدیق محمد ابوبکر عطاری
فتوی نمبر: WAT-970
تاریخ اجراء13محرم الحرام1444 ھ/13اگست2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر والدین نابالغ بچے کو روزہ رکھوا دیں اور بچہ روزہ توڑ دے تو کیا بچے کے روزہ توڑنے کا گناہ والدین کو ملے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر نابالغ بچہ روزہ توڑ دے تو اس بچے کو یا اس کے والدین کو روزہ توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا، اور نہ ہی بچے پر اس کی قضا یا کفارہ لاز م ہوگا۔

فتاوی رضویہ میں ہے: نابالغ پر تو قلمِ شرع جاری ہی نہیں وُہ اگر بے عذر بھی افطار کرے اُسے گنہ گار نہ کہیں گے۔

لقولہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رفع القلم عن ثلثۃ الی قولہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم وعن الصبی حتی یحتلم۔

(کیونکہ حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھالیا گیاہے۔ ان میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچّے کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچا۔ )فتاوی رضویہ،ج10،ص345، رضافاونڈیشن، لاہور(

بہارشریعت میں ہے: بچہ کی عمر دس(۱۰) سال کی ہو جائے اور اس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو اس سے روزہ رکھوایا جائے نہ رکھے تو مار کر رکھوائیں، اگر پوری طاقت دیکھی جائے اور رکھ کر توڑ دیا تو قضا کا حکم نہ دیں گے اور نماز توڑے تو پھر پڑھوائیں۔ (بہارشریعت،ج01،حصہ05،ص990،مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم