مجیب: عبدالرب شاکرعطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1599
تاریخ اجراء: 11شوال المکرم1444 ھ/02مئی2023 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
پیٹ میں جو بچہ ہو کیا اس کا بھی صدقہ فطر دینا لازم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، اس وقت اگر بچہ پیٹ میں ہو تو اس کا صدقہ فطر لازم نہیں ہوتا اور اگر اس وقت سے پہلے پیدا ہو چکا ہو تو اس کا صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے: ولا يخرج عن الحمل لانعدام كمال الولاية
ترجمہ: اور حمل کی طرف سے صدقہ فطر نہیں نکالے گا کمال ولایت نہ ہونے کی وجہ سے۔ (بدائع الصنائع،بیان من تجب علیہ صدقۃ الفطر،ج02،ص72،دارالکتب العربیۃ)
بحرالرائق میں ہے: لا يخرج عن عبده الآبق۔۔۔۔ ولا عن الحمل
ترجمہ: اپنے بھاگے ہوئے غلام کاصدقہ فطرنہیں نکالےگااورنہ حمل کاصدقہ فطرنکالے گا۔ (بحرالرائق،باب صدقۃ الفطر،ج02،ص272،دارالکتاب الاسلامی،بیروت)
بہارشریعت میں ہے: عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے۔ (بہارشریعت ،ج01،حصہ05،ص935،مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم