دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
عرض ہے اگر کوئی رات کا کھانا سحری کی نیت اور سنت ادا کرنے کی نیت سے کھائے تو اس کی سحری کی سنت ادا ہو جائے گی؟ رہنمائی فرما دیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سحری کھانا بھی سنتِ مبارکہ ہے، اور سحری میں تاخیر کرنا بھی سنتِ مبارکہ ہے، رات کا کھانا سحری کی نیت سے کھا لینے کی صورت میں سحری کی سنت تو ادا ہوجائے گی لیکن تاخیر سے سحری کرنے کی سنت پر عمل نہیں ہوگا، جبکہ یہ سنت موکدہ ہے، لہٰذا سحری تاخیر سے کرنی چاہیے تا کہ دونوں سنتوں پر عمل ہوجائے۔
چنانچہ سحری میں تاخیر کرنے کے متعلق حدیثِ پاک میں ہے:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم: ثلاثة يحبها اللہ: تعجيل الفطر، و تأخير السحور، و ضرب اليدين إحداهما على الأخرى في الصلاة
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزوں کو اللہ محبوب رکھتا ہے، افطار میں جلدی کرنا، سحری میں تاخیر کرنا اور نماز میں دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھنا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد 7، صفحہ 269، مطبوعہ دارالحرمین، القاھرۃ)
روزے کے لیے سحری اور سحری میں تاخیر کے سنت ہونے کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے:
يسن للصائم السحور لما روي عن عمرو بن العاص عن النبي صلي اللہ عليه و اله و سلم أنه قال: إن فصلا بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحور» و لأنه يستعان به على صيام النهار۔۔۔ والسنة فيها هو التأخير لأن معنى الاستعانة فيه أبلغ
ترجمہ: روزہ دار کے لیے سحری کرنا سنت ہے، کیونکہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ہماے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے، نیز دوسری وجہ یہ کہ سحری کے ذریعے دن کے روزے پر مدد لی جائے گی اور سحری میں تاخیر کرنا بھی سنت ہے، کیونکہ تاخیر کی صورت میں (سحری کے ذریعے روزے پر) مدد لینے والا معنی زیادہ بہتر ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 105، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جلدی سحری کرلینے سے سنت ترک ہوجانے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: اوقات سحری و افطار میں عوام جہال کی جنتریوں یا ناواقف پڑھے لکھوں کی فہرستوں پر عمل کرتے اور بلاوجہ بزعم احتیاط دونوں جانب تعجیل سحور و تاخیر افطار سے ترک سنت مؤکدہ حضور پر نور سید عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر مصر رہتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 633، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-3446
تاریخ اجراء:10رجب المرجب1446ھ/11جنوری2025ء