مجیب: ابو الحسن جمیل احمد غوری العطاری
فتوی نمبر:Web-536
تاریخ اجراء: 20ربیع لاول1444 ھ /17اکتوبر2022 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
ہمارے یہاں پانی کافی نمکین ہے، اگر روزہ میں غسل فرض ہوجائے، توکلی کرتے ہوئے منہ میں نمکین پانی کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے، تو کیا اس طرح ذائقہ محسوس ہونے سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
نمکین پانی سے فقط کلی کرنے سے روزے پر کچھ فرق نہیں پڑے گا، اگرچہ اس نمکینی کا ذائقہ منہ میں محسوس ہوتا ہو۔ البتہ اگر اس پانی یا نمکینی کے حلق سے نیچے اترنے کا یقین ہوجائے تو اب روزہ ٹوٹنے کا حکم ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم