logo logo
AI Search

کیا سینی ٹائزر گیٹ سے گزرنے پر روزہ ٹوٹ جائیگا؟

روزے کی حالت میں سینی ٹائزر گیٹ سے گزرنے سے روزے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت(دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل کرونا وائرس سے حفاظت کے لیے مختلف مقامات پر سینی ٹائزر گیٹ نصب کیے گئے ہیں ۔ گزرنے والے روزے کی حالت میں اس میں سے گزرتے ہیں اوراس کے اجزاءحلق میں چلے جاتے ہیں، ان کا ذائقہ بھی حلق میں محسوس ہوتا ہے، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ روزے کی حالت میں یہ جانتے ہوئے کہ میرا روزہ ہے، ایسے گیٹ میں سے کوئی گزرا اور اس کے ذرات اس کے حلق میں پہنچ گئے، تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب

بِسْمِ  اللہِ  الرَّحْمٰنِ  الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگرروزے دارنے سینی ٹائزرگیٹ میں سے گزرتے ہوئے قصداً اس کے ذرات کو کھینچ کر حلق تک نہ پہنچایا، بلکہ خود بخود اس کے ذرات حلق تک پہنچے، تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا اگرچہ اسے روزہ دار ہونا یاد ہو، ہاں اگر کسی روزہ دار نے قصداً اس کے ذرات کو کھینچ کر حلق تک پہنچایا اور اس وقت اسے اپنا روزہ دار ہونا بھی یاد تھا، تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور اگر روزہ دار نے قصداً کھینچ کر حلق تک اس کے ذرات پہنچائے لیکن کھینچتے وقت اسے اپنا روزہ دار ہونا یاد نہ تھا، تو اس صورت میں بھی اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

تفصیل اس میں یہ ہے کہ بذریعہ سانس جوغبار اور دھواں وغیرہ حلق میں پہنچ جاتے ہیں، ان میں روزہ ٹوٹنے ک مدار ان چیزوں کو قصداً حلق میں لے کر جانے پر ہے، جس صورت میں یہ چیزیں اندر گئیں، اس خاص صورت کو اپنانے کی ضرورت تھی یا نہیں اور اس کے باعث اَغلب طور پر یہ چیزیں چلی جاتی ہیں یا نہیں، ان چیزوں پر مدار نہیں ہے، پس اگر قصداً اندر لے کر جائے اور روزہ دار ہونا یاد بھی ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر قصداً اندر لے کر نہ جائے بلکہ یہ اشیاء خود بخود اندرچلی جائیں تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ دخول یعنی خود بخود سانس کے ذریعے ان چیزوں کے اندر جانے سے بچنا ممکن نہیں، کیونکہ اگر روزہ دار اپنا منہ بند بھی کر لے تب بھی ناک کے ذریعے یہ چیزیں دماغ میں چلی جائیں گی، ہاں ادخال یعنی قصداً لے جانے سے بچنا ممکن ہے، تو ادخال سے روزہ ٹوٹ جائے گا، پس بذریعہ سانس سینی ٹائزرکے اندر جانے کا بھی یہی حکم ہوگا۔

مجمع الانھرشرح ملتقی الابحرمیں ہے:

(وإن دخل في حلقه غبار أو دخان أو ذباب) وهو ذاكر لصومه (لا يفطر) والقياس أن يفطر لوصول المفطر إلى جوفه وإن كان لا يتغذى به وجه الاستحسان أنه لا يقدر على الامتناع عنه فإنه إذا أطبق الفم لا يستطاع الاحتراز عن الدخول من الأنف فصار كبلل تبقى في فيه بعد المضمضة وعلى هذا  لو أدخل حلقه فسد صومه حتى إن من تبخر ببخور فاستشم دخانه فأدخله حلقه ذاكرا لصومه أفطر؛ لأنهم فرقوا بين الدخول والإدخال في مواضع عديدةلأن الإدخال عمله والتحرز ممكن ويؤيده قول صاحب النهاية إذا دخل الذباب جوفه لا يفسد صومه  لانہ لم یوجد ماھو ضد الصوم وھو ادخال الشیء من الخارج الی الباطن

ترجمہ: اور اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا دھواں یا مکھی چلی گئی اور اسے اپنا روزہ دار ہونا یاد تھا تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا اور قیاس یہ ہے کہ اس کا روزہ ٹوٹ جائے کہ روزہ افطار کرنے والی چیز اس کے جوف تک پہنچ چکی اگرچہ اس کو غذا کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس سے بچنے پر قادر نہیں ہے کیونکہ جب منہ بند کرے گا تو ناک کے ذریعے اندر جانے سے روکنے پر قدرت نہیں ہوگی، تو یہ اس تری کی طرح ہوگیا جو کلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے اور اسی بناء پر اگر حلق میں داخل کیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، یہاں تک کہ جس نے بخور کے ساتھ دُھونی دی اور اس کا دُھواں سُونگھا اور روزہ یاد ہوتے ہوئے حلق میں داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ فقہاء نے متعدد جگہ پر دخول اور ادخال میں فرق کیا ہے کیونکہ ادخال صائم کا اپنا عمل ہے جس سے بچنا ممکن ہے اس کی تائید صاحبِ نہایہ کا یہ قول کرتا ہے کہ جب مکھی پیٹ میں داخل ہوگئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ کوئی ایسی چیز نہیں پائی گئی جو روزہ کی ضد ہو اور وُہ خارج سے کسی شے کا باطن میں داخل کرنا ہے۔(مجمع الانھرشرح ملتقی الابحر،کتاب الصوم،جلد 1،صفحہ 361، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا: ایک کامل عارف باﷲکے مقبرہ میں بارہ بارہ چند حضرات مل کر بعد ۴ بجے دن کے فاتحہ کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور بوقتِ فاتحہ ہمیشہ مزار شریف سے کچھ فاصلہ پر لوبان جلایا جاتا ہے اور حاضرین مزار شریف کے قریب کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھتے ہیں مگر حضار میں سے کسی شخص کا ارادہ خوشبو یا دُھواں لینے کا ہرگز نہیں ہوتا، اگر بغیر قصد و ارادے کے دُھواں ناک وحلق وغیرہ میں چلا جائے تو کیا روزہ فاسد ہوجائے گا؟ ماہِ رمضان المبارک میں ایک شخص نے بیان کیا کہ اس خفیف دُھوئیں سے روزہ جاتا رہا اور کفارہ لازم آیا، اور جہاں لوبان جلتا ہے روزہ دار وہاں سے علیحدہ کھڑے ہوتے ہیں اگر چہ مکان ایک ہے۔

اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا: متون وشروح و فتاویٰ عامہ کتب مذہب میں جن پر مدارِ مذہب ہے علی الاطلاق تصریحات روشن ہیں کہ دُھواں یا غبار حلق یا دماغ میں آپ چلا جائے کہ روزہ دارنے بالقصد اسے داخل نہ کیا ہو تو روزہ نہ جائے گا اگرچہ اس وقت روزہ ہونا یاد تھا۔۔۔۔۔ ہاں اگر صائم اپنے قصد وارادہ سے اگر یا لوبان خواہ کسی شَے کا دُھواں یا غبار اپنے حلق یا دماغ میں عمداً بے حالت نسیان صوم داخل کرے، مثلاً بخور سلگائے اور اسے اپنے جسم سے متصل کر کے دُھواں سُونگھے کہ دماغ یا حلق میں جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوگا۔۔۔۔ بالجملہ مسئلہ غبارودخان میں دخول بلا قصد و ادخال بالقصد پر مدارِ کارہے۔ اوّل اصلاً مفسد صوم نہیں اور ثانی ضرورمفطر، اور بداہۃً واضح کہ صورت مذکورۂ سوال صورتِ دخول ہے نہ کہ شکلِ ادخال، تو اس میں انتقاضِ صوم کا حکم محض بے سند و بے اصل خیال۔ (فتاوی رضویہ،جلد 10،صفحہ 489تا494،رضافاونڈیشن،لاھور)

فتاوی رضویہ کے اس جزئیہ سے ثابت ہواکہ جس مقام پردھواں وغیرہ موجود ہو کہ وہ حلق میں جائے گا وہاں جانا اگرچہ ضروری نہ ہو پھر بھی جانے اوربلا قصد دھوئیں وغیرہ کے سانس کے ذریعے جانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کہ مزارشریف پرحاضری کے لیے جانا کوئی ضروری نہیں تھا، اسی طرح اگر وہ سبب ایسا ہو کہ اس کے اپنانے سے اغلب طورپر غبار وغیرہ حلق میں چلے جائیں گے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا جیسے چکی پیسنا، گلیوں میں چلنا، ریگستان میں سفرکرنا، معماروں کا مٹی کی دیوار گرانا وغیرہ بلکہ سبب کلی بھی ہو تب بھی روزہ نہیں جائے گا جیسا کہ کلی کے بعد جوتری منہ میں رہ جائے کہ اس تری کا حلق میں جانا یقینی ہے اورکلی ہے کہ ہر دفعہ ضرور جائے گی ۔

چنانچہ مزید فتاوی رضویہ میں ہے: پس دخولِ دخان و غبار بے قصد و اختیار کبھی کہیں پایا جائے اصلاً مفسدِ صوم نہیں ہوسکتا، نہ اس کہنے کی گنجائش کہ فلاں جگہ اتفاق دخول وہاں جانے سے ہوانہ جاتا نہ ہوتا، اور جانا قصداً تھا تو ممکن الاحتراز ہُوا۔۔۔۔ دیکھو کُلی کے بعد جو تری منہ میں باقی رہتی ہے اُسے بھی شرع نے اسی تعذر تحرز کی بنا پر مفطر نہ ٹھہرایا اب وہاں یہ لحاظ ہرگز نہیں کہ یہ کُلی خود بھی ممکن الاحتراز تھی یا نہیں، اگر محض بے ضرورت کُلی کی جب بھی وُہ تری ناقضِ صوم نہ ہو گی حالانکہ ضرور کہہ سکتے تھے کہ یہ اس کا دخول اس کُلی کرنے سے ہوا، نہ کرتا نہ ہوتا، اور کُلی بے ضرورت تھی تو ممکن الاحتراز ہُوا۔۔۔۔ ثم اقول: وباللہ التوفیقاس پر تو عرشِ تحقیق مستقر ہُوا کہ دخول بلا صنعہ کیفما کان (بلا قصد دخول جیسے بھی ہو۔) اصلاً صالح افطار نہیں ، ولہذا علمائے کرام نے مدارِ فرق صرف دخول و ادخال پر رکھا، دخول کا کوئی فرد مفطر میں داخل نہ کیا۔ (فتاوی رضویہ،جلد 10،صفحہ 496،497،رضافاونڈیشن،لاھور)

مزید فرمایا: ” لاجرم یہاں اگر ہوگا تو وہی محض دخول جسے تمام کُتب میں تصریحاً فرمایا کہ ہرگز مفسدِ صوم نہیں، بالجملہ اصول وفروعِ شرعیہ پر نظر ظاہر اسی طرف منجرکہ اسباب علی الاطلاق ساقط النظر، ولہذا جس طرح رمضان مبارک میں (۱) نہانا، (۲) دریا میں جانا حرام نہ ہُوا حالانکہ اس کے سبب کان میں پانی بھی چلاجاتا ہے۔ (۳) دن کو کھانا پکانا اور(۴) کاموں کے لیے آگ جلا نا حرام نہ ہوا۔ مسلمان(۵) نانبائیوں (۶) حلوائیوں، (۷) لوہاروں، (۸) سناروں وغیرہم کی دُکانیں قطعاً معطل کردینا واجب نہ ہو حالانکہ ان میں دُھوئیں سے ملاسبت ہے۔ (۹) جرّاروں، (۱۰) قصابوں، (۱۱) شکّرسازوں، حلوائیوں کا بازار ہڑتال کر دینا لازم نہ ہوا کہ کثرتِ مگس کا موجب ہے۔ دن کو (۱۲) چکّی پیسنا، (۱۳) غلّہ پھٹکنا، (۱۴) باہر نکلنا، گلیوں میں چلنا حرام نہ ہوا۔ حالانکہ وہ غالباً غبار سے خالی نہیں ہوتیں۔ یونہی (۱۵) دن کو مساجد بلکہ گھروں میں بھی جھاڑو دینا خصوصاً صدرِ اوّل میں فرش کچے ہوتے تھے۔ (۱۶) عطاروں کا دوائیں کُوٹنا، (۱۷) مزار عوں کا غلّہ ہوا پر اڑا کر صاف کرنا۔ (۱۸) معماروں کا مٹی کی دیوار گرانا۔ (۱۹) مسافروں کا خوب چلتی ہوئی ریگستان میں سفر کرنا۔ (۲۰) فوج  صائمین کا گھوڑوں پر سوار نرم زمینوں سے گزرنا کہ غالباً دخول غبار کے اسباب ہیں ان کی حرمت بھی کہیں مذکورنہیں بلکہ فوجی مجاہدوں کا روزہ احادیث سے ثابت اور بے ضرورت کُلی کا جواز تو صراحتاً منصوص۔ (فتاوی رضویہ،جلد 10،صفحہ 503،رضافاونڈیشن،لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی عطاری
مصدق: مفتی محمد ھاشم خان عطاری
فتوی نمبر:Lar-9674
تاریخ اجراء: 07رمضان المبارک1441ھ/01مئی2020ء