logo logo
AI Search

گزشتہ روزوں کے فدیے میں کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟

گزشتہ سالوں کے روزوں کا فدیہ دینے میں کس سال کی قیمت کا اعتبار ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ 20 سال پہلے ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا تھا۔ والد صاحب کے کچھ روزے زندگی میں چھوٹ گئے تھے، اُن روزوں کا فدیہ ہم اب دینا چاہتے ہیں، حیلہ وغیرہ نہیں کرنا، پوری پوری رقم ادا کرنی ہے۔ جس کے لیے آپ سے یہ شرعی رہنمائی درکار ہے کہ فدیہ ادا کرنے میں کس سال کے صدقہ فطر کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟ جس سال والد صاحب کے روزے قضا ہوئے تھے، اس سال کے صدقۂ فطر کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا ابھی جب ہم ادا کریں گے، تو اِس سال کے صدقۂ فطر کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد صاحب کے جس سال کے روزے قضا ہوئے تھے، اس سال کے صدقۂ فطر کی قیمت کا اعتبار ہوگا، ابھی ادا کرتے ہوئے موجودہ سال کے صدقۂ فطر کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ زکوٰۃ، صدقہ فطر اور کفارات میں ان کے واجب ہونے کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے، نہ کہ جس دن ادا کیے جائیں، اس دن کی قیمت کا۔

    زکوٰۃ کی ادائیگی میں لازم ہونے والے دن کی قیمت سے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے :

تعتبر القيمة عند حولان الحول  اذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوی مائتی درهم فتم  الحول ثم زاد السعر أو انتقص فان أدى من عينها أدى خمسة أقفزة وان أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب 

 ترجمہ: (زکوٰۃ کی ادائیگی میں قمری) سال مکمل ہونے کے وقت کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (مثال کے طور پر) کسی شخص کے پاس دو سو قفیز تجارت کے لیے گندم تھی، جو دو سو درہم کے برابر تھی، اس پر سال مکمل ہوگیا۔ پھر قیمت بڑھ گئی یا کم ہوگئی، تو اگر اس شخص نے اُن (گندم کے قفیز) کے ذریعے ہی زکوٰۃ نکالنی ہے، تو پانچ قفیز ادا کرے گا اور اگر قیمت کے ذریعے نکالے، تو جس دن زکوٰۃ لازم ہوئی تھی (یعنی سال مکمل ہوا تھا) اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ ( الفتاویٰ الھندیہ، کتاب الزکوٰۃ، الفصل فی العروض، ج 1، صفحہ 198، مطبوعہ کراچی )

    کفارہ وغیرہ سے متعلق در مختار میں ہے :

وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق وتعتبر القيمة يوم الوجوب 

 ترجمہ: زکوٰۃ، عشر، صدقہ فطر، نذر کی ادائیگی میں اور اعتاق یعنی غلام آزاد کرنے والے کفارہ کے علاوہ ہر طرح کے  کفارے میں قیمت ادا کرنا، جائز ہے اور قیمت ادا کرنے میں مذکورہ چیزیں لازم ہونے کے دن کی قیمت کااعتبارہوگا۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الزکوٰۃ، باب زکوٰۃ الغنم، ج 3، ص 250، مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن روزوں کے فدیہ سے متعلق فرماتے ہیں: قیمت میں نرخ بازار آج کا معتبر نہ ہوگا جس دن ادا کررہے ہیں، بلکہ روزِ وجوب کا۔ مثلاً اُس دن نیم صاع گندم کی قیمت دو آنے تھی، آج ایک آنہ ہے  تو ایک آنہ کافی نہ ہوگا، دو۲ آنے دینا لازم اور (اگر اُس وقت) ایک آنہ تھی اب دو آنے ہوگئی، تو دو آنے ضرور نہیں ایک آنہ کافی۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص531، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-1841
تاریخ اجراء: 12 ذیقعدۃ الحرام 1441ھ / 04 جولائی 2020ء