مجیب:مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-2587
تاریخ اجراء: 11رمضان المبارک1445 ھ/22مارچ2024ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا تراویح کے بغیر روزہ ہو سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
روزہ الگ عبادت ہے اور تراویح مستقل الگ عبادت ہے؛ لہذا اگر کسی نے روزہ رکھا اور تراویح ادا نہیں کی تو اس کا روزہ تو ادا ہوجائے گا، لیکن بلا عذر ایک بار بھی تراویح چھوڑنا اساءت ہے اور چھوڑنے کی عادت بنا لینے کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:
وهي سنة الوقت لا سنة الصوم في الأصح فمن صار أهلا للصلاة في آخر اليوم يسن له التراويح كالحائض إذا طهرت والمسافر والمريض المفطر
ترجمہ: اصح قول کے مطابق تراویح وقت کی سنت ہے، روزے کی سنت نہیں، تو جو دن کے آخری حصے میں نماز کا اہل ہو، اس کےلیے تراویح سنت ہے جیسا کہ حائضہ عورت جب پاک ہوجائے، مسافر اور روزہ چھوڑنے والا مریض۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح،فصل فی التراویح،ص 159، المكتبة العصرية)
تارکِ تراویح کاحکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تین شب تراویح میں امامت فرما کر بخوفِ فرضیت ترک فرمادی، تو اس وقت تک وہ سنت مؤکدہ نہ ہوئی تھی، جب امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے اِجرا فرمایا اورعامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس پرمجتمع ہوئے، اس وقت سے وہ سنت مؤکدہ ہوئی، نہ فقط فعلِ امیرالمؤمنین سے، بلکہ ارشاداتِ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ۔۔۔ اب ان کا تارک ضرور تارکِ سنتِ مؤکدہ ہے اورترک کا عادی فاسق وعاصی (گنہگارہے)۔ (فتاوی رضویہ،ج 7،ص 471،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم