logo logo
AI Search

بیٹی اور ماں کے پاس صرف پانچ پانچ تولہ زیور ہو تو زکوۃ ہوگی؟

دس تولہ زیور جس میں پانچ تولہ والدہ کا اور پانچ تولہ بیٹی کا ہو تو زکوۃ کا حکم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1031
تاریخ اجراء: 03محرم الحرام1445 ھ/22جولائی2023 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارے پاس 10 تولہ زیور ہے جو کہ 5 تولہ میری اور 5 تولہ میری والدہ کی ملک ہے، میں شادی شدہ ہوں مگر رہتی اپنی والدہ کے ساتھ ہوں تو آیا کیا ہم پر زکوٰۃ ہو گی یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

زکوٰۃ واجب ہونے کیلئے ہر ایک کی ملکیت کا جداگانہ اعتبار کیا جاتا ہے، نیز تنہا سونے پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب ساڑھے سات تولہ مکمل ہو۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ، یا آپ کی والدہ کی ملکیت میں یہی 5۔5 تولہ سونا ہی ہے اس کے علاوہ اموالِ زکوٰۃ (چاندی، کرنسی، پرائز بانڈز وغیرہ) میں سے کچھ بھی نہیں ہے تو دونوں میں کسی پر بھی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔

ہاں! اگر مذکورہ سونے کے علاوہ بھی کوئی اموالِ زکوٰۃ (چاندی، کرنسی، پرائز بانڈز، وغیرہ) میں سے کچھ موجود ہے تو (دیگر شرائط کی موجودگی میں) سال گزرنے پر جس کی ملکیت میں ہو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم