قرض دی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم؟
سات لاکھ رقم قرض دی ہوئی ہے، کیا اس پر زکوۃ لازم ہوگی ؟
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1437
تاریخ اجراء: 12رجب المرجب1445 ھ/24جنوری2024 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم نے سات لاکھ رقم کسی کو قرض دی ہوئی ہے، کیا اس پر بھی زکوہ دینا ہوگی؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
قرض میں دی گئی رقم پر سال بسال زکوۃ بنتی رہتی ہے اور بہتر یہی ہے کہ اس کی زکوۃ بھی سال مکمل ہونے پر ہی ادا کر دی جائے، ہاں یہ بھی اختیار ہے کہ قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوۃ اس وقت دی جائے جب کم از کم نصاب کے پانچویں حصہ کے برابر رقم وصول ہوجائے۔ نیز اگر ایک ساتھ ہی ساری قرض کی رقم ملے تو سب پر ایک ساتھ ہی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے جبکہ نصاب پر سال گزر چکا ہو اور اگر کئی سال بعد رقم موصول ہو تو گزشتہ تمام سالوں کا حساب لگا کر سب سالوں کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم