logo logo
AI Search

کیا آٹھ ماہ کے بچے پر زکوۃ فرض ہوگی؟

آٹھ ماہ کی بچی کی ملکیت میں سونا (Gold) ہو، تو زکوۃ کا حکم؟

مجیب:مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1538
تاریخ اجراء: 03رمضان المبارک1445 ھ/14مارچ2024 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میری بچی آٹھ ماہ کی ہے، اس کی ملکیت میں تین تولہ سونا ہے، کیا اس پر زکوۃ فرض ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مذکورہ بچی کی ملکیت میں موجود سونے پر زکوۃ  فرض نہیں کیونکہ زکوۃ فرض ہونے کیلئے بالغ ہونا ضروری ہے۔

بہارِ شریعت میں ہے: نابالغ پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ (بہار شریعت، جلد01، صفحہ 875، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم