بیٹی کی شادی کیلئے لئے پلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی؟
بیٹی کی شادی کے اخراجات کے لیے خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-630
تاریخ اجراء: 07شعبان المعظم 1443ھ/11مارچ 2022ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں سعودی عرب میں ہوں اور اپنی بیٹی کے لیے ایک پلاٹ لینا چاہتا ہوں، اس کی ملک نہیں کروں گا، جب وہ بڑی ہوگی تو اسے بیچ کر اس کی شادی کروں گا۔ کیا اس پلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
وہ پلاٹ آپ بیٹی کی ملک نہیں کر رہے بلکہ اپنی ہی ملک میں رکھیں گے اور جب آپ کی بیٹی بڑی ہوگی تو اس سے اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات وغیرہ کریں گے تو اس صورت میں چونکہ وہ پلاٹ بیچنے کی نیت سے ہی خرید رہے ہیں، لہذا وہ مال تجارت ہے اور آپ کی ہی ملک ہے لہذا اسے بھی زکوۃ کے حساب میں شامل کیا جائے گا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم