logo logo
AI Search

کیا اپنے سات سال کے بھتیجے کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

بھتیجے کواپنی زکوۃ دینا

مجیب:مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-318
تاریخ اجراء:04جُمادَی الاُولٰی1443ھ/09دسمبر2021ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اپنے سات سال کے بھتیجے کو اپنی زکوۃ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر وہ بھتیجا شرعی فقیر ہے اور اس کا باپ اگر زندہ ہے اور وہ بھی شرعی فقیر ہے اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہیں تو اسے زکوۃ دے سکتے ہیں۔

شرعی فقیر وہ ہے جس کے پاس حاجت اور قرض سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر کوئی مال نہ ہو۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم