سونے کو کیش کے ساتھ ملا کر مجموعے پر زکوۃ فرض ہوگی؟
کرنسی کے نصاب ساتھ سونا بھی شامل ہوجائے توزکوۃ اداکرنے کا حکم
مجیب: ابو مصطفی ماجد رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-150
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک1443 ھ /23 اپریل2022
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی کے پاس تین لاکھ روپے کیش ہیں جن پر زکوۃ فرض ہے دوران سال دس تولہ سونا بھی آگیا کیا سونے کی مالیت کو کیش کے ساتھ ملا کر مجموعے پر زکوۃ فرض ہوگی یا دونوں کی الگ الگ زکوۃ دے سکتے ہیں نیز کیا سونے کے لیے الگ سال شمار ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں کیش اور سونے کی زکوۃ الگ الگ دینا بھی جائز ہے اور دونوں کو ملا کر مجموعے کی زکوۃ دینا بھی جائز ہے کیونکہ دونوں کا علیحدہ علیحدہ نصاب پایا جارہا ہے مگر یاد رہے کہ سونا جو درمیان ِ سال میں حاصل ہوا اس کے لیے الگ سال شمار نہیں ہوگا بلکہ پہلے سے موجود اموال پر جب سال مکمل ہوگا تو سونے پر بھی سال مکمل شمار کیا جائے گا۔
فتاویٰ اہلسنت میں ہے: درمیانِ سال میں مزید مال ملک میں آجائے تو اس کا نیا سال شمار نہیں ہوتا بلکہ وہی پچھلے نصاب بھر مال کے ساتھ ملا کر سال پورا ہونے پر کل مال کی زکوٰۃ نکالی جاتی ہے۔ (فتاویٰ اہلسنت، کتاب الزکوۃ، صفحہ 199، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم