logo logo
AI Search

فصل تیار ہونے پر بیچی تو عشر کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فصل تیار ہونے کے بعد بیچ دی تو کیا عشر لازم ہوگا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فصل تیار ہوچکی تھی مگر ابھی کٹائی باقی تھی کہ اس سے پہلے مالک نے بیچ دی، سوال یہ ہے کہ اس صورت میں فصل کا عشر خریدار ادا کرے گا یا بیچنے والا ؟ بیان فرما دیں۔

جواب

فصل جب اس قدر تیار ہوجائے کہ اب اس کے بگڑنے، سوکھنے اور خراب ہونے کا اندیشہ نہ رہے تو اس پر عشر واجب ہوتا ہے اور جس کی ملک میں یہ حالت پیدا ہوگی، اسی پر عشر لازم ہوگا۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ یہ حالت بائع (یعنی بیچنے والے) کی ملک میں پیدا ہوئی کہ اس نے فصل تیار ہونے کے بعد فروخت کی لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اسی پر عشر لازم ہے، خریدار پرلازم نہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطّاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2023ء