logo logo
AI Search

غیر سیدہ والدہ کا زکوۃ لیکر اپنے سید بچوں پر استعمال کرنا کیسا؟

غیرسیدہ کااپنے سیدبچوں کوزکوۃ سے کھلانا

مجیب:ابو رجا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1064
تاریخ اجراء:13صفرالمظفر1444 ھ/10ستمبر2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا غریب غیر سید عورت زکوۃ لے کر اپنے سید بچوں کو کھلا سکتی ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جی ہاں! غیر سیدہ عورت اگر شرعی فقیر ہو یعنی اس کے پاس حاجت اصلیہ اورقرض سے زائد کچھ مال یا سامان نہ ہو، یا ہو مگر ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت سے کم ہو، تو اس کو زکوۃ دی جاسکتی ہے، پھر وہ اپنے سید بچوں کو بھی کھلا سکتی ہے کہ زکوۃ جب عورت کو ملی تو وہ اپنے محل پر پہنچ گئی، اب عورت اپنے بچوں کو دے تو یہ ہدیہ ہوگا اور سید کو ہدیہ دینا جائز ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

قالت: وأتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم، فقلت: هذا ما تصدق به على بريرة، فقال: «هو لها صدقة، ولنا هدية »

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا  نے فرمایا: اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گوشت لایا گیا تو میں نے عرض کہ: یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث1493، ص277، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم