logo logo
AI Search

جہیز میں ملے کپڑے اور برتن وغیرہ پر زکوۃ کا حکم؟

گھریلوکپڑوں اورجہیزکی اشیاء کی زکاۃ

مجیب: ابو رجا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-935
تاریخ اجراء01محرم الحرام1443 ھ/01اگست2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا گھر میں رکھے ہوئے بھاری کپڑوں اور جہیز میں دئیے گئے برتن جیسے بڑے دیگ وغیرہ پر بھی زکوۃ دینا ہوگی، اگر چہ یہ استعمال میں نہ ہوں؟ اور اگر استعمال میں ہوں تو تب کیا حکم ہوگا، یہ بھی بتا دیں۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جہیز میں دئیے گئے بھاری کپڑے، برتن، دیگ وغیرہ پر زکوۃ نہیں ہے، خواہ وہ زیراستعمال ہوں یا زیراستعمال نہ ہوں، کیونکہ زکوۃ کے لیے مال نامی ہونا شرط ہے، اور وہ چھ طرح کے مال ہیں:

1: سونا۔ 2: چاندی۔ 3: رقم۔ 4: مال تجارت۔ 5: فصل۔ 6: سائمہ (یعنی چَرائی کے) جانور۔ جبکہ آپ کی بیان کردہ چیزیں ان میں سے کسی کے تحت داخل نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم