بنو ہاشم پر زکوٰۃ حرام ہونے کی وجہ نیز بنو ہاشم کون ہیں؟

بنو ہاشم پر زکوٰۃ و صدقہ حرام کیوں ہے؟ اور بنو ہاشم کون ہیں؟

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کتبِ فقہ میں یہ موجود ہے کہ بنی ہاشم کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ نیز حضرت ہاشم رحمہ اللہ کے بیٹوں میں حضرت عبدالمطلب رحمہ اللہ کے علاوہ بھی بیٹے موجود تھے جیسے ایک نام اسد بن ہاشم کا بھی ہے، جن کی بیٹی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسد بن ہاشم اور ان کے دیگر بھائیوں کی اولاد بھی تو بنی ہاشم میں داخل ہوئی لیکن کتبِ فقہ میں جہاں زکوۃ نہ دینے کی بات کی جاتی ہے وہاں بنی ہاشم میں صرف حضرت عبدالمطلب رحمہ اللہ کی اولاد کو ہی ذکر کیا جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے احادیث میں اپنے لئے اور اپنی آل کے لیے صدقہ کو حرام فرمایا ہے۔ احناف کے نزدیک ان احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آل سے مراد بنی ہاشم ہیں اوران کے لیے واجب صدقے کے حرام ہونے کی وجہ خود حدیث پاک میں یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ صدقاتِ واجبہ مال کا مَیل ہیں۔ بنوہاشم چونکہ عزت و تکریم کے لائق ہیں اس لئے لوگوں کے مال کا میل ان کیلئے حلال نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بنو ہاشم میں جو شرعی طور پرعزت و تکریم کے لائق تھے ان کیلئے صدقہ حرام ہو گیا، جو شرعی طور پر عزت وتکریم کے لائق نہیں تھے وہ اگرچہ بنو ہاشم ہی ہوں، اگرچہ حضرت عبد المطلب رحمہ اللہ ہی کی اولاد میں سے ہوں، ان کیلئے صدقہ حرام نہیں ہوا، جیسے ابولہب کی اولاد اگرچہ حضرت عبد المطلب رحمہ اللہ کی اولاد میں سے ہے مگر یہ ان بنی ہاشم میں داخل نہیں ہے جن کیلئے صدقہ حرام ہوا، کیونکہ ان کا والد ابولہب کافر ہونے کی وجہ سے شرعی طور پر عزت وتکریم کے لائق نہ تھا، جب خود ابولہب کیلئے حکم ثابت نہیں تو اس کی اولاد کیلئے بھی ثابت نہیں ہوگا۔ جہاں تک حضرت ہاشم رحمہ اللہ کے حضرت عبد المطلب رحمہ اللہ کے علاوہ دیگر بیٹوں کا تعلق ہے تو ان کی نسل ہی باقی نہ رہی، اس لئے ان کا ذکر، کتب میں بنی ہاشم کے تحت نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ بنی ہاشم کیلئے جو صدقہ حرام ہوا ہے، وہ واجب صدقہ ہے، نفلی صدقہ ان کیلئے بھی حلال ہے۔

بخاری ومسلم شریف اور متعدد کتبِ احادیث میں ہے:

(و اللفظ للاول)”عن أبی هريرة رضی الله عنه، قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يؤتى بالتمر عند صرام النخل، فيجیء هذا بتمره، و هذا من تمره حتى يصير عنده كوما من تمر، فجعل الحسن والحسين رضی الله عنهما يلعبان بذلك التمر، فأخذ أحدهما تمرة، فجعلها فی فيه، فنظر اليه رسول الله صلى الله عليه و سلم، فأخرجها من فيه، فقال: أما علمت أن آل محمد صلى الله عليه و سلم لا يأكلون الصدقة

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کھجوریں توڑنے کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی جاتیں، یہ بھی، وہ بھی، ہرشخص اپنی کھجوروں میں سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کھجوریں لاتا، یہاں تک کہ کھجوروں کا ڈھیر بن جاتا۔ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنھما ان کھجوروں کے پاس کھیلنے لگے، ان میں سے ایک نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو ان کے منہ سے کھجور نکال لی اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ بے شک آلِ محمد صدقہ تناول نہیں کرتے۔ (بخاری شریف، کتاب الزکاۃ، باب اخذ صدقۃ التمر عند صرام النخل، صفحہ 485، مطبوعہ بیروت)

حدیث میں آلِ محمد سے مراد بنی ہاشم ہیں، عمدۃ القاری میں حدیث کے الفاظ ”آل محمد“ کے تحت فرمایا:

آل النبی صلى الله عليه و سلم بنو هاشم خاصة عند أبی حنيفة و مالك

ترجمہ: امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک رحمھما اللہ کے نزدیک آل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد صرف بنو ہاشم ہیں۔ (عمدۃ القاری جلد 9، صفحہ 115، مطبوعہ بیروت)

بنوہاشم کو صدقہ نہ دینے کی وجہ خود حدیث پاک میں بیان ہوئی، چنانچہ مسلم شریف کی ایک طویل حدیث میں ہے:

ان ھذہ الصدقات انما ھی او ساخ الناس و انھا لا تحل لمحمد و لا لآل محمد

ترجمہ: یہ صدقات لوگوں (کے مال) کا میل ہیں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آل کیلئے حلال نہیں ہیں۔ (مسلم شریف، کتاب الزکاۃ، باب ترک استعمال آل النبی علی الصدقۃ، صفحہ 438، مطبوعہ بیروت)

بنوہاشم میں کون کون شامل ہیں اور بنوہاشم کو صدقہ نہ دینے کی وجہ کے بارے میں لمعات التنقیح اور مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

”و اللفظ للاول“ فسروا بنی ھاشم بآل عباس و آل علی و آل جعفر و آل عقیل و آل حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنھم، و المقصود من ھذا التفسیر أن لیس جمیع بنی ھاشم ممن تحرم علیھم الصدقۃ کأبی لھب فانہ یجوز الدفع الی بنیہ، لأن حرمۃ الصدقۃ لبنی ھاشم کرامۃ من اللہ تعالٰی لھم و لذریتھم حیث نصروہ صلی اللہ علیہ و سلم فی جاھلیتھم و اسلامھم، و أبو لھب کان حریصا علی أذاہ فلم یستحقھا بنوہ۔

ترجمہ: بنوہاشم کی تشریح میں محدثین نے آلِ عباس، آلِ علی، آلِ جعفر، آلِ عقیل اور آلِ حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنھم کو شامل کیا ہے۔ اس تشریح سے مقصود یہ بتانا ہے کہ تمام بنی ہاشم ایسے نہیں ہیں جن کیلئے صدقہ حرام ہو،جیسے ابولہب، کیونکہ اس کی اولاد کو صدقہ دینا جائزہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی ہاشم کیلئے صدقہ کی حرمت، اللہ کی طرف سے ان کی اور ان کی اولاد کی عزت و تکریم کی وجہ سے ہےکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی، زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام میں بھی مددکی، جبکہ ابو لہب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء دینے کا حریص تھا، اس لئے اس کی اولاد اس تکریم کی مستحق نہ ہوئی۔ (لمعات التنقیح جلد 4، صفحہ 288، مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت، امام احمدرضاخان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”بنی ہاشم کو زکوۃ و صدقاتِ واجبات دینا،زنہار جائز نہیں، نہ انہیں لینا حلال۔ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں اس کی تحریم میں آئیں اور علتِ تحریم ان کی عزت کرامت ہے کہ زکوۃ مال کا مَیل ہے اور مثلِ سائرِصدقاتِ واجبہ، غاسلِ ذنوب، تو ان کا حال مثلِ ماءِ مستعمل کے ہے جو گناہوں کی نجاسات اور حدث کے قاذورات دھو کر لایا، ان پاک لطیف ستھرے اہلبیت طیب وطہارت کی شان، اس سے بس ارفع واعلی ہے کہ ایسی چیزوں سے آلودگی کریں، خود احادیثِ صحیحہ میں اس علت کی تصریح فرمائی۔“ (فتاوی رضویہ جلد 10، صفحہ 272، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بنی ہاشم کا نسب بیان کرتے ہوئے صاحب عیون الاخبار عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری (المتوفی: 276ھ) اپنی کتاب المعارف میں فرماتے ہیں:

أما ھاشم بن عبدمناف فاسمہ عمرو، و مات بغزۃ من أرض الشام، و ولدہ عبدالمطلب و أسد و غیرھما ممن لم یعقب۔ فأما أسد فولدہ حنین و لم یعقب، و ھو خال علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ و فاطمۃ بنت اسد و ھی أم علی بن ابی طالب۔ و لیس فی الأرض ھاشمی الا من ولد عبد المطلب بن ھاشم لأنہ کان لھاشم ذکورا لم یعقبوا۔

ترجمہ: ہاشم بن عبد مناف کا اصل نام عمرو ہے، جن کا انتقال غزہ میں شام کی سرزمین پر ہوا۔ ان کی اولاد میں عبدالمطلب اور اسد اور ان دو کے علاوہ دیگر وہ بیٹے بھی شامل ہیں جن کا سلسلہ نسب نہیں چلا۔ اسد بن ہاشم کے ایک بیٹے حنین تھےجو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ماموں تھے اور ایک بیٹی فاطمہ بنت اسد تھیں جو کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں۔ اب زمین میں ہاشمی صرف وہ باقی رہ گئے ہیں جو حضرت عبدالمطلب بن ہاشم کی اولاد سے ہیں کیونکہ حضرت ہاشم کے باقی بیٹوں کا نسب باقی نہیں رہا۔ (المعارف، صفحہ 71، مطبوعہ قاھرہ)

رد المحتار میں ہے:

اعلم أن عبد مناف وهو الأب الرابع للنبی صلى الله عليه و سلم أعقب أربعة و هم: هاشم و المطلب و نوفل و عبد شمس، ثم هاشم أعقب أربعة انقطع نسل الكل إلا عبد المطلب

ترجمہ: جان لیں کہ عبد مناف جو کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے آباء میں سے چوتھے نمبر پرہیں، ان کے چار بیٹے تھے جو کہ یہ ہیں: ہاشم، مطلب، نوفل، عبد شمس۔ پھر ہاشم کے بھی چار بیٹے تھے مگر سوائے عبد المطلب کے، باقی سب کی نسل منقطع ہوگئی۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 299، مطبوعہ بیروت)

صدقہ سے مراد واجب صدقہ ہے۔ فیض القدیرمیں ہے:

أن المراد الزكاة أی لا تحل لنا الصدقة المعهودة و هی الفرض بخلاف النفل فتحل لهم دونه عند الشافعية و الحنابلة و أكثر الحنفية

ترجمہ: یہاں مراد زکوۃ ہے،یعنی ہمارے لئے معہود صدقہ جو کہ فرض ہے وہ حلال نہیں ہے۔ شوافع، حنابلہ اور اکثر احناف کے نزدیک نفلی صدقات آلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے حلال ہیں۔ (فیض القدیر، جلد 2، صفحہ 685، مطبوعہ بیروت)

بہارشریعت میں ہے: ”صدقہ نفل اور اوقاف کی آمدنی بنی ہاشم کو دے سکتے ہیں، خواہ وقف کرنے والے نے ان کی تعیین کی ہو یا نہیں۔“ (بہارشریعت جلد 1، حصہ 5، صفحہ 931، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد محمد فراز عطاری مدنی

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: OKR- 0011

تاریخ اجراء: 17 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 14 جون 2025ء