logo logo
AI Search

کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکوٰۃ کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکوۃ کا مسئلہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکوۃ ہے یا ان کے کرائے پر زکوۃ ہے اور اگر کرائے پر زکوۃ ہے تو اس کو کس طرح نکالنا چاہیے؟

جواب

 کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکوۃ  نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر  ان کا کرایہ، بقدرنصاب جمع ہے یا دوسرے اموالِ زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب جتنا ہو جائے تو دیگر شرائط کی موجودگی میں، نصاب کا سال مکمل ہونے پر اس کرایہ پر زکوۃ لازم ہوگی۔

 چنانچہ کرائے پر چلانے کے لئے بنائے ہوئے مکانات پر زکوۃ کے احکام بیان کرتے ہوئے فَتَاوَى رضویہ میں امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”مکانات پر زکوۃ نہیں اگر چہ پچاس کروڑ کے ہوں، کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہو گا اس پر زکوۃ آئے گی اگر خود یا اور مال سے مل کر قدر نصاب ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 161، رضا فاؤنڈیشن لاهور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3659
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1446 ھ/15 مارچ 2025 ء