کیا رینٹ کی گاڑی یا ٹرک پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟
کرائے پردئیے ہوئے ٹرک کی زکاۃ
مجیب: ابوحفص محمد عرفان مدنی عطاری
فتوی نمبر: WAT-934
تاریخ اجراء: 01محرم الحرام1443 ھ/01اگست2022 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے پاس ایک ٹرک ہے، جسے کرائے پر دیا ہوا ہے اور اس سے آمدنی آتی ہے، تو مجھے اس آمدنی کی زکوۃ دینی ہوگی یا پھر اس ٹرک کی مالیت پر زکوۃ فرض ہوگی؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں ٹرک کی ویلیو پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی، البتہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر بچ جائے، تو وہ آمدنی خود یا دیگر ہم جنس اموالِ زکوۃ (مثلاً سونا، چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت وغیرہ) کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے، تو دیگر شرائط کی موجودگی میں اس پر زکوۃ فرض ہو جائے گی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم