جانوروں پر زکوۃ کا نصاب اور زکوٰۃ کا حکم
کون سے جانوروں پرزکوۃ ہے اورکتنی ہے؟
مجیب: ابو مصطفیٰ کفیل عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-141
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک1443 ھ /07 اپریل2022ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر جانور بیچنے کے لیے نہ ہوں تو ان کی زکوۃ بھی لازم ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جانور جب افزائش نسل یا دودھ کے حصول یا محض فربہ کرنے کے لیے ہوں اور سال کا اکثر حصہ خود سے چرتے ہوں یعنی مالک انہیں اپنے پلے سے نہ چراتا ہو اور زکوۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں تو ایسے جانوروں پر بھی زکوۃ لازم ہے۔
یہ تین قسم کےجانورہیں:
(1) اونٹ: کم ازکم پانچ اونٹ ہوں تو ان پر ایک بکری یا اس کی قیمت بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہے
(2) گائے: کم از کم تیس گائے ہوں تو ان پر ایک سال بھر کا بچھڑا یا بچھیا یا ان کی قیمت بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہے۔
(3) بکری: کم ازکم چالیس بکریاں ہوں تو ان پر ایک سال بھر کی بکری یا اس کی قیمت بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہے۔
بہار شریعت میں ہے: سائمہ وہ جانور ہے جو سال کے اکثر حصہ میں چر کر گذر کرتا ہو اور اس سے مقصود صرف دودھ اور بچے لینا یا فربہ کرنا ہے۔ (بہار شریعت، جلد:1، صفحہ: 892، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
نوٹ: جانوروں پر زکٰوۃ کے مسائل بالتفصیل سمجھنے کےلیے بہارشریعت، جلد اول، صفحہ 892 تا 901، کا مطالعہ فرمائیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم