زکوۃ کی رقم سے کسی کی شادی کروانا کیسا؟
زکوۃ کی رقم سے شادی کروانے کا حکم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-2616
تاریخ اجراء: 22رمضان المبارک1445 ھ/02اپریل2024 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زکوۃ کی رقم سے کسی کی شادی کروا دینا کیسا؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
زکوۃ کی رقم شادی کے اخراجات جیسے ہال کی بکنگ یا دعوت کے کھانے وغیرہ میں، شرعی فقیر کو مالک بنائے بغیر، خود سے صرف کی تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی، اور اگر شرعی فقیر کو مالک بنادیا، پھر اس نے شادی کے اخراجات میں رقم خرچ کی یا اس کی اجازت سے کسی اور نے خرچ کی تو زکوۃ ادا ہوجائے گی، یونہی شادی میں جو سامان یعنی فرنیچر کپڑے، برتن وغیرہ دیئے جاتے ہیں وہ مستحق زکوۃ کو زکوۃ کی نیت سے دیئے تو اس سے بھی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
در مختار میں ہے: یشترط ان یکون الصرف تملیکا لا اباحۃ
ترجمہ: زکوۃ ادا کرنے میں بطورِ تملیک خرچ کرنا شرط ہے نہ کہ بطورِ اباحت۔ (در مختار، ج 3، ص 341، دار المعرفۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: مباح کر دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی، مثلاً فقیر کو بہ نیت زکاۃ کھانا کھلا دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یالے جائے تو ادا ہوگئی۔ یو ہیں بہ نیت زکاۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنا دیا ادا ہوگئی۔ (بہار شریعت، ج1، حصہ 5، ص 874، مکتبۃ المدینہ)
بہار شریعت ہی میں ہے: روپے کے عوض کھانا غلہ کپڑا وغیرہ فقیر کو دے کر مالک کردیا تو زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 909، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم