باپ غیر سید اور ماں سیدہ ہو تو اولاد کو زکوۃ دینا جائز ہے؟
ماں سیدہ ہو اورباپ غیرسید،تواولادکوزکاۃ دیناکیسا؟
مجیب: ابو احمد محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1005
تاریخ اجراء: 23محرم الحرام1444 ھ/23اگست2022 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کوئی غیر سید و غیر ہاشمی اگر سید زادی سے شادی کرے تو ان کی اولاد کو کیا زکاۃ دےسکتے ہیں؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جی ہاں! دریافت کی گئی صورت میں بچوں کے والد جبکہ غیر سید اورغیر ہاشمی ہیں تو والدہ اگرچہ سید زادی ہیں پھر بھی انہیں زکاۃ دے سکتے ہیں کیونکہ شرع میں نسب باپ سے ثابت ہوتا ہے، ماں سے نہیں۔ فتاوی رضویہ میں جن افراد کو زکاۃ دینا جائز نہیں، ان کا شمار کرنے کے بعد امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا:
یہ سولہ شخص ہیں، جنہیں زکوۃ دینی جائز نہیں، ان کے سوا سب کو روا، مثلا ہاشمیہ بلکہ فاطمیہ عورت کا بیٹا جبکہ باپ ہاشمی نہ ہو کہ شرع میں نسب باپ سے ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج10، ص109، رضافاونڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم