مال تجارت ہے مگر زکوۃ کی رقم نہیں تو زکوۃ کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مالِ تجارت موجود ہے لیکن زکوۃ ادا کرنے کے لئے رقم موجود نہیں تو حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے بھائی کا بزنس ہے جس میں وہ کاریں خریدتے اور بیچتے ہیں، ابھی ان کے پاس بیچنے کے لئے کاریں موجود ہیں، حالات ایسے ہیں کہ جتنی رقم بھی موجود ہے وہ جلد ہی خرچ ہوجائے گی، ایسی صورتحال میں سال پورا ہونے کی صورت میں کیا ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟
جواب
یہ گاڑیاں مالِ تجارت میں شامل ہیں۔ لہٰذا جو بھی گاڑیاں بیچنے کے لئے ان کی اپنی ملکیت میں موجود ہیں تو شرائطِ زکوۃ کی موجودگی میں ان تمام گاڑیوں کی مارکیٹ ویلیو کا حساب لگا کر ان کی زکوۃ ادا کرنا ہوگی، اگر سال مکمل ہوچکا ہے اور فی الحال قبضے میں رقم نہیں ہے تو کسی سے قرض لے کر یا کوئی سامان بیچ کر زکوۃ ادا کی جائے، تاخیر کرنا، جائز نہیں ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1552
تاریخ اجراء: : 07 رمضان المبارک 1445 ھ/18 مارچ 2024 ء