logo logo
AI Search

کیا ہر مال پر سال گزرنا ضروری ہے؟

مال زکاۃ پرسال گزرنے کی وضاحت

مجیب: ابوحفص محمد عرفان مدنی عطاری
فتوی نمبر: WAT-927
تاریخ اجراء29ذوالحجۃالحرام1443 ھ/29جولائی2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

زید کے پاس 10 لاکھ روپے ہیں، جن میں سے 6 لاکھ پر سال گزرا ہے اور باقی 4 لاکھ پر چھ مہینے گزرے ہیں تو کیا وہ ابھی صرف چھ لاکھ کی زکوۃ دے گا یا 10 لاکھ سے ابھی زکوۃ دے گا؟ جبکہ سال گزرنا ضروری ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

قاعدہ یہ ہے کہ جوشخص مالک نصاب ہو اور ابھی اس کے نصاب پر سال نہیں گزرا تو دوران سال اسی نصاب کی جنس سے جتنا مال اسے وصول ہوگا، اس کو بھی پہلے نصاب میں شامل کر کے، اصل پر سال گزرنا، دوران سال حاصل ہونے والے مال پر بھی سال گزرنا قرار پائے گا۔ لہذا زید کے پاس پہلے سے موجود 6 لاکھ پر سال مکمل ہو چکا تو دورانِ سال ملنے والے 4 لاکھ پر بھی سال گزرنا شمار کیا جائے گا اور اس 4 لاکھ کی زکوۃ بھی پہلے والے 6 لاکھ کے ساتھ ہی دینا ہوگی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم