logo logo
AI Search

کیا قسطوں پر لی ہوئی چیز پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

قسطوں پرلیے ہوئے فلیٹ کی زکاۃ اداکرنے کاطریقہ

مجیب: ابوالفیضان عرفان احمدمدنی
فتوی نمبر: WAT-963
تاریخ اجراء11محرم الحرام1443 ھ/11اگست2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی شخص فلیٹ قسطوں پر لے اور ابھی تک قسطیں مکمل ادا نہ ہوئی ہوں، تو کیا اس فلیٹ کی  زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی اور کیسے نکالنی ہوگی؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر کسی شخص نے فلیٹ  بیچنے کی نیت سے خریدا، تو اس کی زکوٰۃ اداکرنا لازم ہے اور حکم یہ ہے کہ جو قسطیں باقی ہیں وہ اس پر قرض ہیں اور زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ سال پورا ہونے کے دن جتنی مالیت کا فلیٹ ہے اس میں سے قرض (فلیٹ کی بقیہ اقساط یا اس کے علاوہ کوئی قرض ہے، تو اس کو) مائنس کرنے کے بعد فلیٹ کی بقیہ رقم خود یا دیگر اموالِ زکوٰۃ سے مل کر زکوٰۃ کے نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی) کو پہنچ جائے اور اس کے علاوہ اس پر زکوٰۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جاتی ہوں، تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ اور اگر فلیٹ بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا، تو اس فلیٹ کی زکوٰۃ فرض نہیں۔ اسی طرح فلیٹ لیا تو بیچنے کے لیے تھا لیکن قرض مائنس کرنے کے بعد نصاب نہیں بچتا تو بھی زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم