logo logo
AI Search

کیا مالدار بیوہ کے بچوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

صاحب نصاب ،بیوہ عورت کے بچوں کوزکوۃ دینا

مجیب:محمد بلال عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1074
تاریخ اجراء:17صفرالمظفر1444 ھ/14ستمبر2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیوہ عورت صاحب نصاب ہو اور اس کے دو تین بچے ہوں تو کیا بچوں کی نیت سے زکاۃ دی جا سکتی ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بیوہ عورت کے بچے اگر صاحب نصاب نہیں یعنی شرعی فقیر ہیں اور سید و ہاشمی بھی نہیں تو انہیں زکاۃ دے سکتے ہیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ انہیں زکاۃ کے مال کا مالک بنایا جائے، بغیر ان کو مالک بنائے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ:

جو بالغ ہے یا سمجھدار ہے کہ قبضہ کرنا جانتا ہے تو زکاۃ کا مال اس کے قبضہ میں دے کر اسے مالک بنا دیں، اور اگر نا سمجھ ہے تو اس کے ولی، باپ دادا وغیرہ کو یا جس کی نگرانی میں ہے، اسے اس کی طرف سے قبضہ کرا دیا جائے۔

بہار شریعت میں ہے: مالک کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو، یعنی ایسا نہ ہو کہ پھینک دے یا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہوگی، مثلاً نہایت چھوٹے بچہ یا پاگل کو دینا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اُس کی طرف سے اس کا باپ جو فقیر ہو یا وصی یا جس کی نگرانی میں ہے قبضہ کریں۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 875، مکتبۃ المدینہ)

نوٹ: شرعی فقیر وہ ہے جس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ (ضروریات زندگی گزارنے میں جن کی حاجت پڑتی ہے جیسے گھر، گھریلو استعمال کی اشیاء وغیرہ) سے فارغ ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنا مال، سامان، جائیداد، سونا وغیرہ نہ ہو جو تنہا یا دوسرے سے مل کر ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کوپہنچے۔ لہذا بیوہ کے بچوں کو اگر وراثت میں نصاب برابر مال مل رہا ہو یا اس کے علاوہ ان کی ملکیت میں نصاب برابر مال ہو تو وہ غنی ہوں گے، ان کو زکاۃ نہیں دے سکتے و گرنہ وہ شرعی فقیر ہوں گے، لہذا اگر وہ ساتھ ہاشمی بھی نہ ہوں توان کوزکاۃ دے سکتے ہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم