logo logo
AI Search

مستحق کو اتنی زکوۃ دینا کیسا کہ وہ صاحب نصاب بن جائے؟

شرعی فقیر کو نصاب کی حد تک زکوۃ دینا

مجیب:مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-2597
تاریخ اجراء: 15رمضان المبارک1445 ھ/26مارچ2024 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

شرعی فقیر کو اتنی زکوۃ دینا  جس سے وہ  خود صاحب نصاب بن جائے یہ کیسا ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

شرعی فقیر کو اتنی زکوٰۃ دینا کہ وہ خود صاحب نصاب بن جائے مکروہ ہے، لیکن اتنی دے دی تو زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ البتہ شرعی فقیر حاجت مند ہو مثلاً اس کا کنبہ بڑا ہے اگرسب پرتقسیم کی جائے توسب کونصاب سے کم پہنچے گی یا اس پر قرض ہے کہ قرض نکال کرکچھ نہ بچ یا نصاب سے کم بچے تو پھر نصاب کے برابر دینا بھی مکروہ نہیں ۔

بہار شریعت میں ہے: مالِ زکاۃ اگر بقدرِ نصاب نہ ہو تو ایک کو دینا افضل ہے اور ایک شخص کو بقدرِ نصاب دے دینا مکروہ، مگر دے دیا تو ادا ہوگئی۔ ایک شخص کو بقدرِ نصاب دینا مکروہ اُس وقت ہے کہ وہ فقیر مدیُون نہ ہو اور مدیُون ہو تو اتنا دے دینا کہ دَین نکال کر کچھ نہ بچے یا نصاب سے کم بچے مکروہ نہیں۔ یوہیں اگر وہ فقیر بال بچوں والا ہے کہ اگرچہ نصاب یا زیادہ ہے، مگر اہل و عیال پر تقسیم کریں تو سب کو نصاب سے کم ملتا ہے تو اس صورت میں بھی حرج نہیں۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 927، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم