logo logo
AI Search

قرض کی صورت میں پرائز بانڈز اور سونا چاندی پر زکوۃ؟

سونا، چاندی اور پرائز بانڈ ہوں، ساتھ میں قرض بھی ہو تو زکوۃ کا حکم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1506
تاریخ اجراء: 25شعبان المعظم1445 ھ/07مارچ2024 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں سیلری پرسن ہوں، میرے پاس 6.3 تولہ سونا، 10 تولہ چاندی، 50 ہزار مالیت کے پرائز بانڈ ہیں، ان کے علاوہ اور کوئی چیز موجود نہیں، مجھ پر قرض بھی ہے، کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، اس صورت حال کے مطابق مجھ پر زکوٰۃ لازم ہو گی یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں آپ کے اوپر جو قرض ہے، وہ قرض مائنس کرنے کے بعد آپ کے پاس 52.5 تولہ چاندی کی مالیت کے برابر مالِ زکوۃ بچتا ہے، تو قرض مائنس کر کے باقی مالِ زکوۃ پر زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا، کرائے کا مکان ہونا اور سیلری پرسن ہونا زکوۃ لازم ہونےسے مانع (رکاوٹ) نہیں ہے۔

اگر آپ کے پاس کیش نہ ہو، تو مالِ زکوٰۃ میں سے کچھ بیچ کر زکوۃ ادا کر یں، اس وجہ سے سال گزرنے کے بعد تاخیر کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم